Lecture archive

تمام بیانات

Every summary links to the original public lecture for complete context.

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

افغان طالبان کل ہیرو تھے تو آج مخالفت کیوں؟

The Afghan Taliban Were Heroes Yesterday—So Why the Opposition Today?

مفتی عبد الرحیم اپنے اس بیان میں افغان طالبان کے ماضی کے جہاد اور موجودہ دور میں ان کی مخالفت پر گفتگو فرما رہے ہیں۔ آپ کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب افغان طالبان نے عظیم جہاد کیا تھا تو پوری پاکستانی عوام اور علماء نے ان کی بھرپور حمایت کی تھی کیونکہ اس وقت وہ حق پر تھے۔ لیکن اب بعض لوگ یا طبقات جو ماضی میں ان کی حمایت کرتے تھے، ان کے اخلاقی یا عملی رویوں کی بنا پر ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ماضی کی قربانیوں کی وجہ سے کسی کے غلط اعمال یا رویوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی محض ماضی کی نیکیوں کی بنیاد پر ان کے موجودہ کبائر کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

How Can the Ongoing Terrorism from Afghanistan Be Eliminated?

اس ویڈیو میں مفتی عبدالرحیم صاحب نے افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی اور اس کے تدارک کے طریقوں پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ گفتگو میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ پاکستان نے اپنی طرف سے سرحدیں سیل کیں اور تجارت بند کی، لیکن اس کے باوجود دہشت گردی کے واقعات جاری ہیں۔ مفتی صاحب نے واضح کیا کہ افغان طالبان کی قیادت یا عوام کو پاکستان سے کوئی خطرہ نہیں ہے، اور پاکستان کو اس معاملے میں دو طرفہ مذاکرات، سفارت کاری، اور تمام دستیاب آپشنز کو بیک وقت استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ نیز، اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ غلط بیانیوں سے گریز کیا جائے اور دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار اور حقیقی تعلقات قائم کرنے کے لیے سنجیدہ اور جامع بات چیت کی جائے تاکہ خطے میں امن اور استحکام کی فضا قائم ہو سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

طالبان کی حکومت بھارت کا مہرہ کیسے ہے؟ تکلیف دہ حقائق

How Is the Taliban Regime a Pawn of India? Distressing Facts

اس ویڈیو میں مفتی عبدالرحیم افغانستان اور بھارت کے تعلقات، افغان طالبان کی پالیسیوں، اور خطے میں دیگر ممالک کے کردار پر گفتگو کر رہے ہیں۔ گفتگو میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ کس طرح بعض افغان حکام اور شخصیات کے بھارت اور دیگر بیرونی طاقتوں کے ساتھ روابط بڑھ رہے ہیں اور پاکستان اور خطے کے لیے اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔ مقرر نے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے افغانستان کی صورتحال اور اس کے پس پردہ حقائق کو زیر بحث لایا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والے 3 قسم کے عناصر

3 Types of Elements Spreading Terrorism in Pakistan

مفتی عبد الرحيم پاکستان میں دہشت گردی اور فساد پھیلانے والے تین قسم کے عناصر پر روشنی ڈالتے ہیں۔ بیان میں خوارج، باغیوں اور فسادیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو شریعت، جہاد یا مذہب کے نام پر زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ مفتی صاحب وضاحت کرتے ہیں کہ یہ عناصر خودکش حملوں، مساجد پر حملوں اور علماء کو شہید کرنے جیسے قبیح افعال میں ملوث ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ مختلف ناموں اور حوالوں سے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں اور بیرونی یا اندرونی حمایت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ان لوگوں کا بھی تذکرہ کرتے ہیں جو خود لڑائی میں شامل نہیں ہوتے لیکن لڑنے والوں کی مالی، فکری اور نظریاتی مدد کرتے ہیں، اور انہیں خوارج سے بھی زیادہ بدتر اور خبیث قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کا اصل چہرہ اور ان کی حقیقت کیا ہے؟ مفتی عبد الرحیم کا بیان

Hazrat Ustad Sahib Has Exposed the True Face! | Customs and Realities of Afghan Taliban & TTP

اس ویڈیو میں مفتی عبد الرحیم نے پاکستان اور افغانستان کے سرحدی حالات، ٹی ٹی پی (TTP) اور افغان طالبان کے تعلقات اور اس کے پاکستان پر اثرات پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان اور دیگر عسکری تنظیمیں پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں اور سرحدی علاقوں میں ہونے والے تنازعات پر پاکستان کے مذہبی اور سیاسی حلقوں کا مؤقف بعض اوقات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مفتی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ افغان طالبان کے حامیوں کو سہولتیں دی جا رہی ہیں اور پاکستانی عوام کے خون کو ارزاں سمجھا جا رہا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

دورہ حدیث میں صحیح بخاری کا درس - مفتی عبد الرحيم

Lesson of Sahih Bukhari in the Daurah-e-Hadith - Mufti Abdul Raheem

مفتی عبد الرحيم کی طرف سے دورہ حدیث کے طلباء کے لیے صحیح بخاری کے اسباق کا ایک معلوماتی اور روحانی منظر۔ اس ویڈیو میں طلباء کو درسِ حدیث میں شریک اور انہماک کے ساتھ علم دین حاصل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مدرسے کا ماحول علمی سرگرمیوں سے بھرپور ہے جہاں اساتذہ اور طلباء علم حدیث کی تحصیل میں مصروف ہیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

شیہ حوثیوں کی مذمت اور فرقہ واریت پر اہم گفتگو

Condemnation of Shia Houthi and Discussion on Sectarianism

اس ویڈیو میں مفتی عبد الرحيم صاحب سے حوثیوں کے حملوں اور اس حوالے سے پھیلنے والی فرقہ وارانہ بحث پر سوال کیا گیا ہے۔ مفتی صاحب وضاحت کرتے ہیں کہ وہ خود فرقہ واریت، فرقہ پرستی اور قوم پرستی کے سخت خلاف ہیں اور انہوں نے ہمیشہ تمام مکاتب فکر اور اقلیتی برادریوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ جو لوگ حوثیوں کے عمل کی حمایت کرتے ہیں یا ان کے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں، وہ درحقیقت ایک مخصوص نظریے کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں پاکستان اور دیگر خطوط پر ہونے والی گفتگو، مسلک اور نظریات کے تنازعات، اور حوثیوں کے اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

عبادت میں دل کیسے لگائیں؟

How to Concentrate in Ibadah? | Mufti Abdul Raheem

اس بیان میں مفتی عبد الرحیم صاحب نے اس بات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے کہ عبادت، ذکر اور تلاوت کے دوران دل اور ذہن کو ایک جگہ کیسے متوجہ رکھا جائے، جسے خشوع و خضوع کہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ خشوع و خضوع کا تعلق انسان کے اختیار اور کوشش سے ہے، اور اگر کسی کوشش کے باوجود دلی یکسوئی حاصل نہ ہو تو اللہ تعالی کی طرف سے اس پر کوئی گناہ نہیں بلکہ کوشش کرنے پر اجر ملتا ہے۔ بیان میں خیالات کے انتشار اور وسوسوں پر قابو پانے کے طریقوں، سنت و آداب کی پابندی، اور نماز یا اذکار کے معانی و مفہوم پر غور کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے تاکہ انسان اپنی عبادت کو بہتر بنا سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

سب سے افضل شہید کون ہے؟

Who is the Best Martyr?

مفتی عبدالرحیم اس بیان میں ان خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو دہشت گردی کے واقعات میں کھویا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ۳۱ افراد شہید ہوئے جن میں پولیس اہلکار اور عام لوگ شامل ہیں۔ آپ شہداء کے لواحقین کو صبر جمیل کی تلقین کرتے ہیں اور معاشرے سے اپیل کرتے ہیں کہ شہداء کے یتیم بچوں، بیوہ افراد اور متاثرہ خاندانوں کی خصوصی دیکھ بھال کریں۔ آپ شہداء کی قربانیوں، اسلام میں شہادت کی عظمت اور اس کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں جان قربان کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت دونوں میں باعزت ہوتے ہیں۔ مزید برآں، آپ خیبر پختونخوا کی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور مشکل وقت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

ذكر اللہ اور سائنسی تحقیق

Zikrullah and Scientific Research

مفتی عبد الرحيم اس مختصر بیان میں ذکر اللہ اور اس کے سائنسی و روحانی فوائد پر روشنی ڈالتے ہیں۔ طبی سائنس کے مطابق بھی جب انسان ذکر اذکار، معمولات اور آخرت کی فکر میں مصروف رہتا ہے تو اس کے جسم کی قوتِ مدافعت (immune system) مضبوط ہوتی ہے اور اندرونی روحانی طاقت پیدا ہوتی ہے۔ کینسر جیسی بیماریوں کے علاج میں بھی قوتِ مدافعت کی بحالی انتہائی اہم ہے، اور ذکر اللہ انسان کو روحانی و جسمانی طور پر مضبوط کرتا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

باب المندب کی بندش: یہ قصہ بہت جلد ختم ہو جائے گا!

Closure of the Bab-ul-Mandeb Strait: This Will Be Over Very Soon!

مفتی عبد الرحیم اس مختصر بیان میں آبِ مندب کی بندش اور اس کے عارضی ہونے پر گفتگو کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ آبِ مندب کی موجودہ بندش ایک عارضی صورتحال ہے اور اس کے پس پشت سعودی عرب سمیت کئی دیگر ممالک جیسے مصر، سوڈان، جبوتی، صومالیہ اور یمن کا کردار شامل ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر اور آبِ مندب کے حوالے سے ایک چودہ ملکی اتحاد بھی موجود ہے، لیکن ان سب کے باوجود اس معاملے کی کوئی خاص حیثیت نہیں ہے اور یہ قصہ ان شاء اللہ بہت جلد انجام کو پہنچ جائے گا۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

کوہاٹ مسجد حملہ اور دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات

Kohat Mosque Attack and Rising Terrorism

اس پوڈ کاسٹ میں کوہاٹ کی مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے اور کم از کم اکتیس افراد کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔ مفتی عبدالرحیم اور ان کے مہمان نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ مساجد اور عبادات گاہوں پر حملے کرنے والے کون لوگ ہیں اور ان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔ گفتگو میں اس بات پر بھی بحث کی گئی ہے کہ دہشتگردی کی اس نئی لہر کے پیچھے کون سی خارجی طاقتیں، مالی امداد اور تکنیکی معاونت کارفرما ہیں، اور پاکستان کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کس طرح ٹھوس حکمت عملی اپنانی چاہیے، خصوصاً سرحدی کنٹرول اور اندرونی سلامتی کے امور پر۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ملکی معیشت

Rising Petrol Prices and National Economy

اس ویڈیو میں مفتی عبدالرحیم نے ملک میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، معاشی بحران، اور حکومتی منصوبہ بندی پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ آپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو بہترین منصوبہ بندی اور کفایت شعاری سے کام لینا چاہیے۔ پیٹرول اور دیگر ایندھن کے استعمال میں اعتدال اور اسراف سے بچنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومتی سطح پر بدعنوانی اور فضول خرچی کا خاتمہ کر کے وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ مفتی صاحب نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ معاشی چیلنجز عارضی ہیں اور مناسب حکمت عملی سے ان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

فلسطین کے نام لیوا آج حرمین پر حملہ آور ہیں

Those Who Claim to Stand for Palestine Are Attacking the Two Holy Mosques Today

مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں فلسطین کے معاملے پر بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح وہ لوگ جو زبانی طور پر فلسطین اور غزہ کا نام لیتے ہیں، درحقیقت اپنے مخصوص مقاصد کے تحت اسے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کس طرح غزہ پر ڈھائی سال سے جاری بمباری اور مظالم میں عورتیں اور بچے نشانہ بنے ہیں، مگر اس سنگین صورتحال کے باوجود دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مفتی صاحب یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بہت سے عناصر جو بظاہر فلسطینیوں کے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ دراصل اندرونی طور پر دیگر معاملات جیسے باب المندب اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا دھمکیاں دینے جیسی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ مسلم امہ کو اس صورتحال میں بیدار ہونے اور حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر وہ شخص جو مظلوموں کا نام لیتا ہے وہ اتنی سنجیدگی اور اخلاص نہیں رکھتا جتنا عام لوگ گمان کرتے ہیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

مڈل ایسٹ میں عدم استحکام کا ذمہ دار کون ہے؟

Who Is Responsible for Instability in the Middle East?

مفتی عبدالرحیم صاحب نے اس گفتگو میں مڈل ایسٹ کی موجودہ صورتحال، حوثیوں اور امریکہ کے تعلقات اور خطے میں عدم استحکام کے اسباب پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح امریکہ اور حوثیوں کے درمیان مبینہ روابط کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور امن کے قیام میں امریکہ اور اس کی سکیورٹی پالیسیاں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ گفتگو کے دوران اس بات پر بھی بحث کی گئی کہ حوثیوں کے حملے اور سعودی عرب کے ساتھ ان کی چپقلش کے پس پردہ کون سے سیاسی اور عسکری مفادات کارفرما ہیں۔ مفتی صاحب نے واضح کیا کہ اس خطے میں امن اور استحکام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے میں بیرونی طاقتیں اور ان کے اتحادی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے نہ صرف سیاسی بلکہ اخلاقی اور مذہبی سطح پر بھی شدید بحران پیدا ہو رہا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

حوثیوں کا خاتمہ قریب ہے

The End of the Houthis Is Near

مفتی عبد الرحیم اس بیان میں حوثیوں کی عسکری تنظیم اور ان کی کارروائیوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ حوثیوں کے پاس کوئی باقاعدہ حکومت نہیں ہے بلکہ یہ ایک عسکری گروہ ہے جو دیگر تنظیموں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں داعش جیسی تنظیموں کو بھی عارضی عروج ملا لیکن وہ ختم ہو گئیں، اور اب حوثیوں کی طرف سے خانہ کعبہ اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانا اور میزائل فائر کرنا ان کے خاتمے کا سبب بنے گا۔ سعودی حکومت نے بھی اس حملے کی تردید اور تصدیق کی ہے کہ کس طرح مکہ مکرمہ کی فضاؤں میں میزائل اور ڈرون کو مار گرایا گیا۔ مفتی عبد الرحیم کا ماننا ہے کہ مقدس مقامات کی توہین اور جارحیت حوثیوں کے انجام کا پروانہ ثابت ہوگی اور سعودی حکومت انہیں نیست و نابود کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

حوثی کون ہیں؟

Who Are the Houthis?

اس ویڈیو میں مفتی عبدالرحیم صاحب حوثی تحریک، ان کے عقائد، تاریخ اور موجودہ صورتحال پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ حوثی فرقہ زدیہ سے تعلق رکھتا ہے اور ان کے عقائد معتزلہ، امامیہ اور حنفی فقہ سے ملتے جلتے ہیں۔ انہیں تفضیلی شیعہ کہا جاتا ہے جو خلفائے راشدین کی خلافت کو مانتے ہیں لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کو افضل سمجھتے ہیں۔ ویڈیو میں حوثیوں کے یمن میں اثر و رسوخ، عسکری تنظیم بننے اور بین الاقوامی لابی کے ذریعے ان کے استعمال ہونے پر بھی بحث کی گئی ہے۔ مفتی صاحب بتاتے ہیں کہ حوثیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ، مدینہ طیبہ اور دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے پیچھے ایک بڑی بین الاقوامی سازش ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

کیا پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی حوثیوں کے خلاف جنگ کا حصہ بنیں گے؟

Will Pakistan and Türkiye Join Saudi Arabia’s War Against the Houthis?

اس ویڈیو میں مفتی عبد الرحيم سے سوال کیا گیا ہے کہ کیا پاکستان اور ترکی حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی جنگ میں شامل ہوں گے؟ مفتی صاحب نے واضح کیا کہ حوثیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ پر حملے اور میزائل پھینکنا انتہائی سنگین جرم ہے اور امتِ مسلمہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے دراصل ایک تنظیم کا حصہ ہیں اور سعودی عرب کے پاس ان عناصر سے نمٹنے کے لیے وسیع وسائل موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف صاحب کے بیان کا ذکر کیا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کی حفاظت ویسے ہی کرے گا جیسے اپنے ملک کی کرتا ہے۔ مفتی صاحب نے زور دیا کہ مسلمانوں کو اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور حوثیوں اور ان کے حامیوں کو ان کے عبرت ناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

حوثیوں کا مکہ مکرمہ پر حملہ اور اس کے پس منظر پر مفتی عبدالرحیم صاحب کا تجزیہ

Houthi Attack on Makkah and Its Background: Analysis by Mufti Abdul Raheem

اس پوڈکاسٹ میں مفتی عبدالرحیم صاحب نے حوثیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ پر کیے جانے والے ڈرون حملے اور اس کے پس منظر پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ گفتگو میں حوثی تحریک کے فکری پس منظر، ان کے عقائد، ایران اور دیگر طاقتوں سے ان کے تعلقات، اور حرمین شریفین کے تقدس کو پامال کرنے کی کوششوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ مفتی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ حوثی عسکری تنظیم ہے اور اس قسم کے حملے پوری امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا فتنہ اور چیلنج ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان، ترکی اور مکہ معاہدے کے مستقبل، سعودی عرب کی دفاعی پوزیشن، اور عالم اسلام کے ردعمل پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

مکہ پر کبھی غیر مسلموں کا قبضہ نہیں ہوگا!

Non-Muslims Will Never Take Control of Makkah!

مفتی عبدالرحیم اس مختصر بیان میں اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات اور قرآنی حکم کے مطابق قیامت تک مکہ مکرمہ پر غیر مسلموں کا قبضہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے سورۃ التوبہ کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ چودہ سو سال سے زائد گزرنے کے باوجود کوئی غیر مسلم مسجد الحرام میں داخل نہیں ہو سکا اور بڑی بڑی عالمی طاقتیں بھی اس اسلامی پابندی اور حکم کو تبدیل کرنے کی جرات نہیں رکھتیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

مذہبی تشدد اور خلفشار کی بنیادی 3 چیزیں ہیں

Three Fundamental Causes of Religious Violence and Discord

مفتتی عبد الرحیم اس مختصر بیان میں مذہبی تشدد اور خلفشار کے تین بنیادی اسباب کا ذکر فرماتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ میں قانون لے کر کسی غلط کام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے؟ دوسرا یہ کہ جہاد اور اپنی تنظیم بنانے کے حوالے سے اسلامی احکامات اور شرعی اصول کیا ہیں۔ تیسرا یہ کہ اگر کوئی معاشرہ یا ملک غلط راستے پر چل پڑے تو اس کی اصلاح کے لیے پرامن طریقے کیا ہیں اور کن حالات میں ہتھیار اٹھائے جا سکتے ہیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

امت کے زوال کے 3 اسباب

3 Causes of the Decline of the Ummah

مفتی عبد الرحيم اس ویڈیو میں امت مسلمہ کے زوال کے تین بنیادی اسباب پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلی تقسیم دعوت اور سلطنت کو الگ کرنے کی شکل میں ہوئی، جہاں سلطنت اخلاقیات اور علومِ وحی سے خالی ہو گئی۔ دوسری تقسیم دین اور دنیا کے درمیان کی گئی جہاں مال و دولت کی ہوس کو ترجیح دی گئی اور تیسری تقسیم علمی اداروں اور طبقات (جیسے مدرسہ و سکول اور ملا و مڈڈرن) کے مابین کی گئی۔ جب تک ان تمام شعبوں کو یکجا نہیں کیا جاتا اور ابتداء کی طرح اصلاح نہیں کی جاتی، امت عروج حاصل نہیں کر سکتی۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

بچپن سے بڑھاپے تک مختلف مراحل اور حکمتیں

Different Stages and Wisdoms from Childhood to Old Age

اس بیان میں مفتی عبد الرحیم نے انسان کی زندگی کے مختلف مراحل، بچپن کی بے بسی اور بڑھاپے کی حکمتوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ بچپن میں اللہ تعالیٰ بچے کے اندر اتنی محبت اور معصومیت رکھ دیتا ہے کہ ہر دیکھنے والا اس سے پیار کرتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کا بہترین انتظام ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، بڑھاپا انسان کے لیے ایک فطری نعمت اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑھاپے میں انسان کی دنیاوی مصروفیات کو آہستہ آہستہ کم کر دیتا ہے تاکہ وہ اپنی آخرت کی طرف توجہ دے سکے۔ بیان میں اچانک موت (موت الفجاءۃ) سے پناہ مانگنے اور سفید بالوں کی فضیلت و احترام پر بھی اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

طالب علم کے لیے فرشتوں کا انمول عمل

A Precious Act of Angels for the Seeker of Knowledge

علم حاصل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ ترتیب اور کوشش ہونی چاہیے۔ زندگی کے کسی بھی حصے میں، خواہ بڑھاپا ہو یا بیماری، طالب علم بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سب سے بہتر علم وہ ہے جو خود کو بھی نفع دے اور دوسروں تک بھی نفع پہنچائے۔ طالب علم اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہوتا ہے اور اس کے قدموں کے نیچے فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ سمندر کی مچھلیاں اور بلوں کی چیونٹیاں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔ علم حاصل کرنے سے انسان کا ذہن اور مائنڈ سیٹ دین کے مطابق درست ہو جاتا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

جذباتیت اور جوشیلی تقاریر: شیخ الہند رحمہ اللہ کا پختہ کار اور بلند خیال طرزِ عمل

Emotionality and Passionate Speeches: The Wise and Elevated Approach of Shaykh-ul-Hind

اس بیان میں مفتی عبد الرحیم صاحب نے شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے ایک خطبے کا اقتباس نقل کرتے ہوئے جذباتیت، جوشیلے خطابات اور سطحی تقاریر کے حوالے سے اہم گفتگو کی ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ صرف جذباتی تقاریر سے دلوں کو اطمینان اور مستقل سکون نہیں ملتا بلکہ اس کے لیے پختہ کار، بلند خیال، عاقلانہ اور دائرہ عمل میں مضبوطی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیرہ سالہ مکی زندگی اور دس سالہ مدنی زندگی ہی امت کے لیے بہترین نمونہ اور آئیڈیل ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

پورے دین کا خلاصہ — حضرت لاہوریؒ کا قیمتی ارشاد

Summary of the Entire Religion: Precious Advice of Hazrat Lahori (RA)

اس مختصر بیان میں مفتی عبد الرحيم صاحب نے حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قیمتی ارشاد نقل کیا ہے جس میں پورے دین کا نچوڑ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں خالق کو توحید کے ذریعے راضی کرنے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے اور مخلوق کی خدمت کو دین کا اصل خلاصہ قرار دیا گیا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

سیرت کے علمی ماڈلز بنانے کی ضرورت

The Need to Create Academic Models of Seerah

مفتی عبدالرحیم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف حصوں اور پہلوؤں، جیسے جغرافیہ، ہجرت کے راستوں اور مختلف غزوات (جیسے غزوہ احد اور غزوہ بدر) پر علمی اور عملی ماڈلز تیار کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مدینہ طیبہ میں ڈاکٹر احمد عبدالعزیز نے پی ایچ ڈی کی سطح پر بہترین ماڈلز بنائے ہیں۔ اس طرح کے ماڈلز تعلیمی اداروں اور جامعات میں قائم کرنے سے طلبہ اور طالبات کو سیرت کے مطالعے میں مدد ملے گی اور وہ اسلام کے بنیادی ورثے کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

بڑھاپا، ریٹائرمنٹ اور بیماری کیسے گزاریں؟

How to Spend Old Age, Retirement, and Illness? | Mufti Abdul Raheem

مفتی عبدالرحیم اس بیان میں بڑھاپے، ریٹائرمنٹ، اور دائمی بیماری یا فراغت کے ایام کو بہترین طریقے سے گزارنے کے اصول بیان فرماتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس دور میں انسان کو اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھنی چاہیے اور مایوسی سے مکمل بچنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے۔ مثبت سوچ سے صحت بہتر ہوتی ہے اور مقصدِ حیات کا حصول آسان ہوتا ہے جبکہ منفی سوچ انسان کو ذہنی الجھنوں، مایوسی اور دنیا و آخرت کے نقصان میں مبتلا کر دیتی ہے۔ اس کے علاوہ، آپ نے قرآن و سنت کی روشنی میں تفائل (نیک شگون اور اچھے گمان) کی اہمیت پر زور دیا ہے اور بدفالی یا تشاؤم (بدگمانی) سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ بیان میں نماز میں یکسوئی، خشوع و خضوع، قرآنی اور دعائیہ کلمات کے تراجم کو سمجھنے، اور بڑھاپے میں جامعۃ الرشید جیسے اداروں یا دینی تحریکوں میں اپنی صلاحیتوں اور تجربے کو وقف کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ زندگی کے آخری ایام کو صدقہ جاریہ بنایا جا سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

مملکت میں نفاذِ اسلام کے لیے اتحادِ بین المسلمین اور مسلکوں کے مابین باہمی اتحاد کی اہمیت

The Importance of Inter-Sectarian Unity for Islamization in the Country

مفتی عبد الرحيم اس ویڈیو میں مملکت میں نفاذِ اسلام کے عمل میں مختلف مسلکوں کے مابین موجود اختلافات اور ان کے حل پر گفتگو فرما رہے ہیں۔ آپ کا مؤقف ہے کہ جب تک تمام مکاتبِ فکر (دیوبندی، بریلوی، شیعہ، سفی، اہل حدیث اور جماعت اسلامی وغیرہ) کے درمیان اختلاف موجود ہیں، تب تک کسی بڑے کام کا انجام دینا مشکل ہے۔ اس سلسلے میں ایک ایسا تھنک ٹینک بنانے کی تجویز دی گئی ہے جس میں تمام مکاتبِ فکر کے مقتدر، محقق اور باقاعدہ تسلیم شدہ علماء شامل ہوں تاکہ متفقہ امور پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے اور اسلامائزیشن کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

حضرت استاد صاحب کی کلیۃ الشریعہ کے طلبہ کے ساتھ نشست

Hazrat Ustad Sahib's Sitting with the Students of the Faculty of Shariah

اس ویڈیو میں مفتی عبد الرحيم صاحب کا کلیۃ الشریعہ کے طلبہ کے ساتھ ایک معلوماتی اور اصلاحی نشست کا احوال پیش کیا گیا ہے۔ اس نشست میں طلبہ نے اپنے سوالات رکھے اور حضرت استاد صاحب نے انہیں قیمتی نصائح اور علمی رہنمائی سے نوازا۔ اس اجتماع کا مقصد طلبہ کی علمی و عملی تربیت کرنا اور ان کے اندر دینی علوم کے حصول کے لیے مزید شوق اور اخلاص پیدا کرنا ہے۔ ویڈیو میں طلبہ کی کثیر تعداد اور ان کا علمی ذوق نمایاں نظر آتا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

مشن بنانے کے لیے 3 ناگزیر باتیں

3 Essential Things to Create a Mission by Mufti Abdul Raheem

مفتی عبد الرحیم صاحب اس مختصر بیان میں ایک بہترین اور کامیاب مقصد یا مشن (Vision and Goal) بنانے کے لیے تین بنیادی اور ناگزیر باتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ کام یا مقصد ممکن ہو، ایسا ناممکن کام نہ ہو جس کے پیچھے انسان خود پریشان اور مایوس ہو جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ کام بالکل اسان نہ ہو بلکہ اس میں کچھ محنت اور مشقت درکار ہو تاکہ جب انسان زیادہ ہاتھ پاؤں مار کر اسے حاصل کرے تو اس کی قدر ہو۔ تیسری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ وہ مشن یا مقصد ایک طویل مدتی وقت کے لیے ہونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ کوئی چھوٹا سا کام ہو جو شام تک ختم ہو جائے اور پھر انسان سوچتا رہے کہ اب کیا کرنا ہے۔ ایک طویل المدت مقصد ہونا چاہیے جس پر انسان مسلسل اپنی محنت اور توانائیاں صرف کر سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

سیرت کو یونیورسٹی میں زندہ کریں

Revive Seerah in Universities

مفتی عبد الرحيم نے سیرت طیبہ کے تین بنیادی حصوں پر روشنی ڈالی ہے: سیرت، فقہ السیرت اور تطبیق السیرت۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات میں سیرت چیئرز قائم کی جانی چاہئیں اور طلبہ و طالبات کو ملکی مسائل اور چیلنجز پر تحقیقی مقالات لکھنے کی ترغیب دی جانی چاہیے تاکہ قرآن، سنت اور سیرت کی روشنی میں معاشی، معاشرتی اور ریاستی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

جہاد کے ساتھ ناانصافی سے بچیں

Avoid Injustice Towards Jihad

مفتی عبدالرحیم صاحب اپنے اس بیان میں اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ تبلیغی جماعت، مدرسوں اور خانقاہوں کے بعض لوگ جہاد کے فضائل کو اپنے مخصوص اعمال یا اصطلاحات پر چسپاں کر دیتے ہیں، جو کہ شرعی لحاظ سے درست نہیں۔ جہاد کی فضیلتیں اور احکام اپنی جگہ مسلم ہیں، لیکن انہیں دیگر معمولی اعمال کے ساتھ خلط ملط کرنا یا ان کی بنیاد پر غلط معنی پہنانا جہاد کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حضرت نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جہاد کا اصل مفہوم اور اس کی اصطلاحات کو صحیح طور پر سمجھنا چاہیے تاکہ اس اہم فریضے کے متعلق کسی قسم کی غلط فہمی نہ پھیلے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

سیرتِ رسول ﷺ میں ریاست کی تعلیمات

Teachings of Statecraft in Seerat-e-Rasool ﷺ

مفتی عبد الرحیم اپنے اس بیان میں سیرتِ طیبہ کی روشنی میں ریاست کی تعلیمات اور حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں قیامت تک آنے والے تمام انسانی مسائل اور ریاستی چیلنجز کا مکمل حل موجود ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہجرت کا واقعہ محض وقتی اقدام کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط اسلامی ریاست کی بنیاد رکھنے کے لیے کیا تھا، جس کے لیے پانچ سال تک باقاعدہ تیاری کی گئی اور مختلف قبائل سے مشاورت کی گئی۔ آپ نے زور دیا کہ سیرتِ طیبہ کو آج کے دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشرے اور ریاست کو بہترین خطوط پر استوار کیا جا سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

زندگی کا مقصد اور مشن بنائیں تاکہ آخر دم تک جوان اور پرجوش رہیں

Make a Purpose in Life and Stay Young and Energetic Until the End

مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں زندگی کو بامقصد بنانے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انسان کو دنیا اور آخرت کے نفع کے لیے کسی اچھے اور فلاحی کام کو اپنی زندگی کا مشن بنا لینا چاہیے۔ جب انسان کسی مثبت کام کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیتا ہے تو اس کی بڑھاپے، بیماری اور ریٹائرمنٹ کی پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ تادمِ آخر روحانی طور پر جوان اور سرگرم رہتا ہے۔ مشن کے انتخاب کے لیے ضروری ہے کہ وہ کام ممکن ہو، اعتدال پسند ہو اور طویل المدتی ہو تاکہ انسان اس میں مسلسل محنت کر کے آخرت میں سرخرو ہو سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

امارتِ اسلامی افغانستان: ہم نے غلطیوں سے کیا سیکھا؟

Imarat-e-Islami Afghanistan: What We Learned from Mistakes

اس ویڈیو میں مفتی عبدالرحیم صاحب نے افغانستان کی اسلامی حکومت اور اپنی تعلیمی و تدریسی زندگی کے مختلف تجربات کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ کس طرح افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد اخبارات، رسائل اور تعلیمی نظام کے حوالے سے مشکلات پیش آئیں اور ابتدائی دور میں طریقہ کار نہ معلوم ہونے کی وجہ سے کیسی غلطیاں ہوئیں۔ مفتی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ جیسے جیسے تجربات اور ذمہ داریاں بڑھتی ہیں، انسان شریعت کے مطابق امور کو سمجھتا ہے اور حکمت کے ساتھ فیصلے کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہوں نے اپنے اداروں اور مختلف تجربات کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اصول اور ضوابط کے بغیر کام کرنے میں کیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور ہر کام کو درست طریقے سے انجام دینے کے لیے باقاعدہ تربیت اور طریقوں کا سیکھنا لازم ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

ایک ہزار آیات اور تین ہزار احادیث پر سائنسی تحقیق

Scientific Research on One Thousand Verses and Three Thousand Hadiths

مفتی عبد الرحيم اس بیان میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جامعہ الفلاح، جامعہ غزالہ اور دیگر جامعات کو سیرت طیبہ اور بالخصوص 'اعجازِ علمی' پر بھرپور کام کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ بتاتے ہیں کہ قرآن پاک کی ایک ہزار ایسی آیات اور تین ہزار احادیث موجود ہیں جنہیں آج کی سائنس نے ثابت کیا ہے۔ اگر تمام جامعات اپنے طلبہ و طالبات کو اس موضوع پر کام کرنے اور پڑھانے کی ترغیب دیں، تو اس کے غیر معمولی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ آپ ایک مصری پروفیسر کی مثال دیتے ہیں جنہوں نے ان ہی آیات اور احادیث پر تحقیق کرتے ہوئے پندرہ سالوں میں امریکہ اور یورپ کے پچیس ہزار غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ اگر نئی نسل اور طلبہ کو اس مفید کام پر لگایا جائے تو غیر مسلم بڑی تعداد میں اسلام کے قریب آ سکتے ہیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

ریاستی امور میں اتنے سرگرم کیوں؟

Why So Active in State Affairs? | Mufti Abdul Raheem

اس بیان میں مفتی عبد الرحيم نے تاریخی شخصیات، جیسے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اور مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے کارناموں اور ریاست کے امور میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح ان بزرگوں نے مغل سلطنت اور برصغیر کی بقا کے لیے اہم اقدامات کیے، اور موجودہ دور میں محض جذباتی نعروں اور تقاریر کے بجائے ہوش، عقل اور استقامت سے کام لینے کی ضرورت پر زور دیا۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

مثبت خبریں پھیلائیں اور منفی سے گریز کریں

Spread Positive News and Avoid Negativity

مفتی عبد الرحیم اس بیان میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر میڈیا اور معاشرے میں مثبت کاموں کو اجاگر کیا جائے تو ملک اور معاشرہ بہت بہتر نظر آئے گا۔ اگر ہم ہر وقت منفی چیزوں، اسکینڈلز اور نقصانات پر ہی توجہ مرکوز رکھیں گے اور نعمتوں کو نظر انداز کر دیں گے تو زندگی جہنم جیسی محسوس ہوگی۔ مثبت سوچ کے ساتھ دیکھنے سے ہمیں ہر طرف اللہ کی نعمتیں اور مواقع نظر آئیں گے۔ ہمیں اپنے حالات کا تقابل پچھले ادوار سے کرنا چاہیے اور روزانہ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

جمہوریت اور الیکشن کا شرعی جائزہ

An Islamic Review of Democracy and Elections

اس ویڈیو میں مفتی عبد الرحيم نے جمہوریت، قانون سازی اور الیکشن کے شرعی اور آئینی پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ پاکستان میں جمہوریت قرآن و سنت کے تابع ہے جہاں کوئی بھی قانون شریعت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ پارلیمنٹ اور آئین کے وہ حصے جو ناقابلِ تنسیخ ہیں اور اسلامی نظریے کی پاسداری کرتے ہیں، ان پر گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ الیکشن، ووٹ کے حقوق، ارکانِ پارلیمنٹ کی اہلیت کے شرعی تقاضے اور ریاست کو چلانے کے طریقوں پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

جہاد پہلے یا دعوت و جزیہ؟

Jihad First or Jizya?

مفتی عبد الرحیم اس ویڈیو میں اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اسلامی احکام میں دعوت، جزیہ اور قتال (جہاد) کی کیا ترتیب ہے۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ اصل حکم دعوت دینا ہے، لیکن نظریاتی اور عملی طور پر لوگوں تک دین پہنچانے اور اتمامِ حجت کے لیے تیاری اور حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ سورۃ التوبہ اور دیگر آیات کی روشنی میں بتاتے ہیں کہ کس طرح قتال یا جزیہ کے احکامات نافذ ہوتے ہیں، اور تبلیغی جماعت کی محنت اور جہاد میں کیا فرق ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

ملک و قوم کی تعمیر اور خواتین کا کردار

The Role of Women in Nation Building

اس ویڈیو میں مفتی عبدالرحیم صاحب نے دورِ حاضر میں تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے خواتین کے کردار پر گفتگو کی ہے۔ انہوں نے سیرتِ صحابیات، بالخصوص حضرت امِ عمارہ رضی اللہ عنہا کی شجاعت اور قربانیوں کا ذکر کیا کہ کس طرح انہوں نے غزوات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ قرآن کریم میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق اور فضائل کا بھی خصوصی ذکر موجود ہے۔ حضرت امِ عمارہ رضی اللہ عنہا کی مثال سے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ کس طرح مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے اہل خانہ کی قربانیوں کے باوجود دین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ آخر میں مفتی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی خواتین کو پردے میں رہتے ہوئے علم و تربیت کے ذریعے ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

پیغام امن کمیٹی کا مقصد

The Purpose of Paigham-e-Aman Committee

مفتی عبد الرحیم اس ویڈیو میں 'پیغام امن کمیٹی' کے قیام اور اس کے بنیادی مقاصد پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پیغام پاکستان کے اعلامیے اور فتویٰ کو آٹھ نو سال گزرنے کے باوجود معاشرے میں اس پر عملی نفاذ کی کمی ہے۔ اس کمیٹی میں تمام مسالک، مذاہب اور بڑے مدارس بورڈز کے نمائندے شامل ہیں تاکہ اس امن کے پیغام کو مدارس اور دینی درسگاہوں تک مؤثر طریقے سے پہنچایا جا سکے، خوں ریزی کا خاتمہ ہو، اور فرقہ واریت اور باہمی اختلافات کا سدباب کیا جا سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

گلگل بلتستان کے خطے کی اہمیت اور قومی امن کمیٹی کا کردار

The Importance of the Gilgit-Baltistan Region and the Role of the National Peace Committee

مفتی عبد الرحیم نے گلگل بلتستان کے عوام کو نئی حکومت قائم ہونے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ حکومت بننے کے بعد تمام عوام کو پارٹی بازی سے بالاتر ہو کر ریاست اور حکومت کے جائز کاموں میں سپورٹ کرنا چاہیے۔ انہوں نے قومی امن کمیٹی کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی جس میں تمام مکاتب فکر، دینی مدارس کے بورڈز کی نمائندگی اور اقلیتی برادری کی قیادت شامل ہے۔ کمیٹی کا مقصد مذہب کے نام پر پھیلنے والے فتنے کا سدباب کرنا، صوبائی حکومت کو سپورٹ کرنا اور مقامی حکومت کے ساتھ رابطہ قائم رکھنا ہے۔ مفتی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ گلگل بلتستان کے خطے کو امن، ترقی اور نوجوانوں کی فلاح کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں کسی بھی قسم کے انتشار کو روکا جا سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

پاک افغان امن کوششیں: بار بار ناکام کیوں؟

Pakistan-Afghanistan Peace Efforts: Why Do They Fail Repeatedly?

پاک افغان تعلقات اور امن کوششوں کے حوالے سے مفتی عبدالرحیم بیان کرتے ہیں کہ دونوں حکومتوں کے درمیان مذاکرات کے لیے آٹھ سو سے زائد میٹنگیں اور دیگر سفارتی اقدامات کیے گئے جن میں پاکستان کے جید علماء، مختلف وفود اور متعدد اسلامی ممالک نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود بار بار امن کوششیں ناکام ہوئیں کیونکہ افغانستان کی سرزمین سے مسلسل حملے جاری رہے اور پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی سرپرستی کی جاتی رہی۔ مفتی صاحب نے علماء اور حکومتِ وقت سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانیت، اسلامی اخوت اور پڑوسیوں کے حقوق کے تناظر میں اس صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

پاک فوج کی حب الوطنی: سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں کے لیے مشعل راہ

Patriotism of the Pakistan Army: A Guiding Light for Political Parties and Government Institutions

مفتی عبد الرحيم اس کلپ میں پاک فوج کی حب الوطنی، نظم و ضبط، اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں کو ان سے سیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پاک فوج کے اداروں میں جو نظام، وقت کی پابندی، اور ملک کے ساتھ کمٹمنٹ پائی جاتی ہے، وہ قابلِ تقلید ہے۔ مفتی صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں اپنی ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر ملک اور اس کے اداروں کے ساتھ وفاداری کی حدود کو پار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ملک ہم سب کا گھر اور عزت و ناموس ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

پاکستان کی دنیا میں عزت فوجی طاقت کے مرہونِ منت ہے

Pakistan's Respect in the World is Indebted to its Military Strength

مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں پاکستان کی دنیا میں عزت اور وقار کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ سب پاکستان کی فوجی طاقت اور سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کا مرہونِ منت ہے۔ انہوں نے حال ہی میں ہونے والی فتح مبین اور معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر پاکستان کی فوجی طاقت نے دنیا کو حیران کر دیا۔ پاکستان کے پاسپورٹ، افواج اور حکومت کی دنیا بھر میں جو قدر ہو رہی ہے، اس کے پیچھے ایک مضبوط فوجی قوت موجود ہے۔ مفتی صاحب نے واضح کیا کہ فوج کے افراد ہمارے ہی بھائی اور بیٹے ہیں، اس لیے دینی، اخلاقی، آئینی اور انسانی لحاظ سے ہمیں ان کی حمایت اور قدر کرنی چاہیے، کیونکہ آج انہیں ہماری حمایت اور سپورٹ کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

مرتد کی سزا اور فکری و شرعی مباحث

Punishment for Apostasy and Intellectual & Shariah Discussions

اس بیان میں مفتی عبد الرحیم مرتد کی سزا، اس پر مغربی دنیا اور ملحدین کے اعتراضات اور اس کے شرعی و عقلی جوابات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آپ واضح کرتے ہیں کہ مرتد کی سزا قتل ہے، بشرطیکہ اسے توبہ کا موقع دیا جائے اور وہ توبہ نہ کرے۔ مغرب کی جانب سے 'لا اکراہ فی الدین' کی آیات کا حوالہ دے کر اس پر اعتراض کیا جاتا ہے، جبکہ مرتد سے قتال اور اس کے احکام کے بارے میں فقہی تفصیلات کا جاننا انتہائی ضروری ہے۔ اسپیکر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فقہی احکام، اختلافات اور استدلال کے اصولوں کا مکمل علم ہونا چاہیے تاکہ ملحدین یا سیکولر حلقوں کے اعتراضات کا مدلل اور باوزن جواب دیا جا سکے۔ مزید برآں، بین الاقوامی قوانین، دنیا بھر کے نظاموں اور حقوقِ نسواں کے حوالے سے موجود حقائق اور ڈیٹا کی روشنی میں اسلامی مؤقف کو واضح کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

موٹاپے کا پھیلاؤ، قیامت کی علامت

Spread of Obesity as a Sign of Judgment Day

مفتی عبدالرحیم اس بیان میں احادیث شریفہ کی روشنی میں موٹاپے کے پھیلاؤ کو قیامت کی علامت کے طور پر بیان فرماتے ہیں۔ آپ بتاتے ہیں کہ موٹاپا مختلف بیماریوں مثلاً امراض قلب، دماغی امراض، شوگر اور بلڈ پریشر کی جڑ ہے جو جسم کی رگوں کو متاثر کرتا ہے۔ موٹاپے کی وجہ سے جسم میں خون اور پانی کی گردش اور ترسیل متاثر ہوتی ہے جس سے صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ مفتی صاحب والدین کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی صحت، کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیں، کیونکہ آج کل بچے ویڈیو گیمز اور کمپیوٹر کے سامنے زیادہ وقت گزارتے ہیں جس سے ان کی صحت خراب ہوتی ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

افواجِ پاکستان کی قدر و منزلت پہچانیں

Recognize the Value and Status of Pakistan's Armed Forces

مفتی عبدالرحیم اس بیان میں ملک کی سلامتی اور افواجِ پاکستان کی خدمات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح افواج سرحدوں پر اور اندرون ملک امن و امان قائم رکھنے کے لیے قربانیاں دے رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہم امن سے زندگی گزار رہے ہیں۔ مفتی صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے ملک، افواج، دینی مدارس اور قیادت کے لیے خصوصی دعائیں کرنی چاہئیں اور عمرہ کے دوران بھی ان کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ بیان میں ایک حدیث کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے مطابق جو شخص مسلمانوں کی حفاظت کے لیے پہرہ دیتا ہے، اسے اس علاقے میں ہونے والی تمام نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ اس لیے سرحدوں اور مختلف محاذوں پر پہرہ دینے والے فوجیوں کی قدر کرنا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہمارا شرعی اور ملی فریضہ ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

ریاست کے باغی کون ہیں؟

Who is a Rebel Against the State?

مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں ریاست کے خلاف بغاوت کے شرعی مفہوم، اس کی شرائط اور اس سے متعلق احکام پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آپ واضح کرتے ہیں کہ باغی کسی کو کب کہا جاتا ہے، اور اس کے لیے کن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔ نیز، معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلانے والوں، غلط خبریں دینے والوں اور ریاست کے امن کو نقصان پہنچانے والوں کے حوالے سے قرآنی آیات اور احکامِ فقہ کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

جدید ٹیکنالوجی، جنریشن گپ اور نوجوانوں کے مسائل کا حل سیرت طیبہ کی روشنی میں

Modern Technology, Generation Gap, and Youth Issues: Guidance from Seerah

مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں جدید دور میں ٹیکنالوجی، سائنسی ایجادات، جنریشن گپ اور نوجوانوں کو درپیش مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ دورِ حاضر میں تبدیلی بہت تیزی سے آئی ہے جس کی وجہ سے بچوں اور بڑوں کے درمیان فکری اور تعلیمی فاصلے پیدا ہو گئے ہیں۔ بچے جدید تعلیم و معلومات کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ بڑے اپنے تجربے سے محروم ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ مفتی صاحب سیرت طیبہ کی روشنی میں واضح کرتے ہیں کہ علم، ٹیکنالوجی اور وسائل (جیسے اے آئی یا جدید ذرائع) کو اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ بڑوں کی سرپرستی اور تجربے سے فائدہ اٹھانا ناگزیر ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارا اور ان کی تربیت فرمائی، اس لیے ہمیں بھی نئی نسل کو موقع دینا چاہیے مگر ان کے فیصلوں اور منصوبہ بندی میں بڑوں کا مشاورتی کردار ہونا چاہیے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

محمد بن سلمان اور حقیقی حقائق | مفتی عبدالرحیم

Muhammad bin Salman and the Real Facts | Mufti Abdul Raheem

مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت اور ان کے دورِ حکومت کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے ترکی کے ساتھ تعلقات بہتر کیے اور امریکی اثر و رسوخ کو متوازن کرتے ہوئے ایک نئی اور خودمختار سمت اختیار کی۔ ویڈیو میں محمد بن سلمان کے فیصلوں، جوان عزم اور دانشمندی کی تعریف کی گئی ہے اور ان کے کردار کو عالمِ اسلام اور بالخصوص خلیجی ممالک کے لیے ایک مثبت تبدیلی قرار دیا گیا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

تبلیغی جماعت کے اصول یونیورسٹیوں میں پڑھائے جائیں!

Principles of Tablighi Jamaat Should Be Taught in Universities!

مفتی عبد الرحیم صاحب اپنے اس بیان میں تبلیغی جماعت کے نظم و نسق، اصول و ضوابط اور تنظیمی حکمت عملی کی تحسین کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کو ایک صدی گزر چکی ہے اور اس دوران بہت سی تحریکیں ختم ہو گئیں لیکن تبلیغی جماعت کا نظام کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ ان کے مطابق اس تحریک کے اصولوں میں کسی خاص مکتب فکر یا علاقے کی قید نہیں ہے بلکہ اس میں ہر طبقے اور مکتب فکر کے لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی طاقت امیر کی اطاعت اور ایک جامع عالمی پلیٹ فارم کا قیام ہے جہاں پوری دنیا کے لوگ ایک ساتھ جڑتے ہیں۔ مفتی صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے انتظامی اور تربیتی اصول اتنے منظم اور بہترین ہیں کہ انہیں یونیورسٹیوں میں پڑھایا جانا چاہیے تاکہ طلباء اور ریسرچ کرنے والے اس سے استفادہ کر سکیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

حضرت استاد صاحب کا واضح اعلان | مفتی عبدالرحیم

Hazrat Ustad Sahib’s Clear-Cut Declaration | Mufti Abdul Raheem

اس ویڈیو میں مفتی عبدالرحیم صاحب نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان کس طرح پاکستان کے علماء، مساجد، مدارس اور خانقاہوں کو اپنا مرکز اور اپنی تعلیم کا منبع قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر گہرا افسوس کا اظہار کیا کہ اتنے بڑے پیمانے پر خونریزی ہو رہی ہے، لوگ قتل ہو رہے ہیں اور جنازے اٹھ رہے ہیں، جبکہ یہ سب انہی کے سکھائے ہوئے درس کا نتیجہ ہے۔ مفتی صاحب نے واضح کیا کہ حق اور باطل کے درمیان اس قدر ابہام پیدا کرنا اور حق کی شناخت کو مشکوک بنا دینا کہ حق اور باطل کی حدود ہی ختم ہو جائیں، سراسر غلط اور ناانصافی ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

مغرب نے سیرتِ طیبہ سے کیسے استفادہ کیا؟

How did the West benefit from the Seerah?

مغرب نے سیرتِ طیبہ اور اسلامی تعلیمات بالخصوص مدیریت اور سیرتِ نبوی کے مختلف حصوں پر کس طرح تحقیق کی اور اس سے استفادہ کیا، مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔ مغربی محققین نے عرب نوجوانوں کو اس موضوع پر ریسرچ اسائنمنٹس دیں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلامی تاریخ اور سیرت میں انتظام و انصرام اور زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

پاسدارانِ انقلاب خطے کے لیے خطرناک کیسے؟

How Are the Revolutionary Guards Dangerous for the Region?

مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں پاسدارانِ انقلاب اور ان کے نظریاتی رویے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ یمن کے حوثیوں کے ذریعے کی جانے والی عسکری کارروائیوں اور سعودی عرب کے ساتھ ان کے تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح یہ نظریات خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔ مفتی صاحب ایرانی حکومت کے اس مؤقف کو سراہتے ہیں جو جنگ کے بجائے صلح اور تعاون کی راہ اپنانا چاہتی ہے، اور ایران کی جانب سے فیلڈ مارشل کو دی جانے والی پذیرائی کا بھی تذکرہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے موجودہ نظریاتی اختلافات کو حل کیے بغیر خطے کے عوام ایک پائیدار اور پرامن مستقبل کی طرف نہیں بڑھ سکتے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

افغان مہاجرین کو کیسے نقصان پہنچایا؟

How Afghan Refugees Were Harmed

مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں افغان مہاجرین کو درپیش مسائل، پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات اور اس حوالے سے طالبان حکومت کی پالیسیوں اور رویے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح افغان مہاجرین اور پاکستان کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی اور پروپیگنڈے نے دونوں ممالک کے تعلقات اور معیشت کو متاثر کیا ہے، اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مہاجرین کو درپیش مشکلات کا ذمہ دار کون ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

تعلیم و تدریس کے مؤثر دس طریقے - مفتی عبدالرحیم

Effective Methods of Teaching by Mufti Abdul Raheem

مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں طلبہ کو پڑھانے اور سمجھانے کے مؤثر طریقوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اساتذہ کو صرف کتابی حد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ پڑھائے جانے والے اسباق کی پریزنٹیشن بنانی چاہیے، طالب علموں کو فہم کے مختلف طریقے سکھانے چاہئیں، اسباق پر تقریر کروانی چاہیے اور سبق کے اختتام پر طلبہ کو آپس میں تکرار اور بحث کا موقع دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ طالب علموں کو پڑھائے گئے موضوع کو زبانی یاد کرنے، نوٹس تیار کرنے، خلاصہ یا ہائی لائٹ نکالنے، موضوع پر ریسرچ اور اسائنمنٹ دینے، معاشرے میں سروے کروا کر لوگوں سے سوال جواب کرنے، اور موضوع پر ویڈیو بنانے جیسے عملی طریقے اپنانے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ علم پختہ ہو سکے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

افغان طالبان کی ٹی ٹی پی کی حمایت کے حوالے سے اہم گفتگو

Afghan Taliban's Support for TTP | Mufti Abdul Raheem

اس ویڈیو میں مفتی عبدالرحیم نے افغان طالبان کی طرف سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مبینہ حمایت کے الزامات اور اس سے جڑے مختلف حقائق پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مختلف پاکستانی علماء اور وفود کے دوروں کے دوران افغان قیادت نے ہمیشہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ کسی کو بھی پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ مفتی صاحب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغان حکومت اور طالبان قیادت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ہمیشہ بات کی ہے، اور ان پر لگائے جانے والے الزامات کہ وہ ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کرتے ہیں، حقائق کے منافی اور غلط ہیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

والدین کے حقوق، اولاد کی ذمہ داریاں اور صلہ رحمی کی اہمیت

Parents' Rights, Children's Responsibilities, and the Importance of Sila-e-Rahmi

مفتی عبدالرحیم اس بیان میں والدین کے حقوق، اولاد کی ذمہ داریوں اور صلہ رحمی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ والدین دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اپنی اولاد کی نیک نامی اور اچھے اعمال کے طالب ہوتے ہیں، جبکہ برے اعمال اور باہمی جھگڑے ان کے لیے قبر اور برزخ میں پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ اولاد کا فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق درست رکھے، باہمی مسائل ختم کرے، اور ایک دوسرے کا خیال رکھے۔ اس کے علاوہ، والدین کے قریبی دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا بھی صلہ رحمی میں شامل ہے اور والدین کے احترام کا حصہ ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

فتنوں کے مرکز: تین لوگ کون ہیں؟

Fitnon Ke Markaz: Who Are the 3 People?

مفتی عبد الرحيم اس بیان میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ایک ارشاد کی روشنی میں قیامت کے قریب فتنوں کے تین بنیادی سرچشموں اور مراکز کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ تین لوگ کون ہیں؟ پہلے نمبر پر وہ جذباتی عالم ہیں جو ہر چیز کو طاقت اور تلوار سے ختم کرنا چاہتے ہیں اور جن کے جذباتی بیانات نے ملک کو اس حالت تک پہنچایا۔ دوسرے نمبر پر وہ خطیب ہیں جو فتنوں کی باقاعدہ دعوت دیتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر وہ مشہور اور معروف سردار ہیں جن کا دنیا میں چرچا ہوتا ہے۔ مفتی صاحب یہ بھی وضاحت کرتے ہیں کہ جذباتی تقریروں اور فتنہ انگیز ماحول سے بولنے اور سننے والے دونوں کا ہوش برقرار نہیں رہتا، اور اس کے نتیجے میں معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابی کا طویل المدتی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

حضرت مفتی رشید احمد رحمہ اللہ کے خاندان سے دلی تعزیت

Heartfelt Condolences to the Family of Hazrat Mufti Rasheed Ahmad (RA)

مفتی عبدالرحیم صاحب نے بھائی محمد سلیم خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی دینی خدمات، خدارسیدگی، اور استقامت کو یاد کیا اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ مفتی صاحب نے آپاجی اسماء، ربیعہ، عطیہ اور دیگر تمام خاندان بالخصوص بھائی شفیق اور بھائی خلیق سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور سب کو صبرِ جمیل کی تلقین کی۔ بیان میں آزمائش پر صبر کرنے اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی فضیلت اور اجر عظیم کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

تحریکِ پاکستان کے عظیم رہنما علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر حاضری

Visit to the Tomb of Allama Shabbir Ahmad Usmani (RA), Great Leader of the Pakistan Movement

مفتی عبدالرحیم نے تحریکِ پاکستان کے عظیم رہنما اور بانیاںِ پاکستان میں شامل حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ سید سلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے مزارات پر حاضری دی۔ انہوں نے اس موقع پر بزرگانِ دین کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے ان اکابرین نے پاکستان کے قیام کے لیے اپنی جان، مال اور دن رات کی قربانیاں دیں۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ قرارداد مقاصد کے محرکین میں سے تھے اور اسلامی آئین کی تشکیل میں ان کا اہم کردار تھا۔ مفتی صاحب نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ان بزرگوں کے خواب کے مطابق دینی اور عصری تعلیم کو یکجا کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور جامعۃ الرشید کو اس مقصد کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ آخر میں انہوں نے تمام بزرگانِ دین کے درجات کی بلندی اور ان کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال صاحب سے مفتی عبد الرحیم صاحب کی ملاقات

Meeting with Federal Minister Professor Ahsan Iqbal by Mufti Abdul Raheem

مفتی عبد الرحیم صاحب نے اپنے وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال صاحب سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دینی مدارس کے طلباء اور نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے، تعلیم کے فروغ اور قومی ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور اور مدارس کے طلباء کے لیے ترقیاتی مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

مزار قائد پر حاضری اور قائدِ اعظم کی خدمات پر خراجِ تحسین

Visit to Mazar-e-Quaid and Tribute to Quaid-e-Azam's Services

مفتی عبدالرحیم نے 30 اگست / 6 ربیع الاول کے موقع پر مزارِ قائد پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر انہوں نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی اسلامی ریاست کے قیام، دو قومی نظریے اور اسلام کی سربلندی کے لیے دی گئی قربانیوں اور خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو قائدِ اعظم کے وژن کے مطابق ایک فلاحی اور اسلامی ریاست بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

طائف کے لوگوں کا واقعہ | مفتی عبدالرحیم

The Story of the People of Taif | Mufti Abdul Raheem

مفتی عبدالرحیم طائف کے تاریخی مقامات، مسجد عبداللہ بن عباس اور مکتبہ ابن عباس کی زیارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں۔ آپ طائف سے متعلق سیرتِ طیبہ کے تین بڑے واقعات بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طائف کا سفر اور مشکلات، محاصرہ طائف اور اس سے حاصل ہونے والے حکمتِ عملی کے اسباق، اور طائف کے وفد کا اسلام قبول کرنے کا واقعہ۔ مفتی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کی تکلیفوں کے باوجود صبر اور حکمت کا مظاہرہ فرمایا اور دعوتِ دین میں استقامت کی مثال قائم کی۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

ریاستی معاہدوں کی پاسداری: اسلامی تاریخ کا روشن سبق

Upholding State Treaties: A Brilliant Lesson from Islamic History

اس بیان میں مفتی عبد الرحیم نے ریاستوں اور قبائل کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اسلام میں معاہدوں کی پاسداری فرض قرار دی گئی ہے اور عہد شکنی کو گناہِ کبیرہ اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا باعث بتایا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں کئی اہم معاہدے کیے گئے جن کی پاسداری کی گئی، خواہ وہ بنو قریظہ، بنو نضیر، بنو قینقاع، قریشِ مکہ یا خیبر کے ساتھ ہوں۔ مقرر نے واضح کیا کہ اسلام میں کسی بھی معاہدے کو توڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور معاہدہ توڑنے والا شریعت کی نظر میں فاسق ہے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

افغان حکومت کی افسوسناک صورت حال

The Deplorable State of the Afghan Government

مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں فلسطین پر ہونے والے مظالم اور عالمِ اسلام کے ردعمل پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں غزہ اور فلسطین پر ہونے والے ظلم کے خلاف دنیا بھر کے غیر مسلموں نے بھی احتجاج کیا، لیکن افغانستان یا دیگر قریبی مقامات سے کوئی احتجاجی جلوس یا عملی قدم سامنے نہیں آیا۔ وہ پاکستان میں ہونے والے حملوں اور ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ان کے پاس پاکستان یا عالمِ اسلام کے مسلمانوں کے لیے کوئی دردِ دل موجود ہے؟ مفتی صاحب اس بات پر افسوس ظاہر کرتے ہیں کہ موجودہ افغان حکومت اور اس سے وابستہ حلقے امتِ مسلمہ کے مسائل سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

مکہ اور مدینہ کی حفاظت

Protection of Makkah and Madinah

مفتي عبد الرکیم اس ویڈیو میں حرمین شریفین یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت اور اس کے حوالے سے اسلامی تناظر پر گفتگو فرماتے ہیں۔ آپ واضح کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے بعد سے قیامت تک مکہ پر کسی کا قبضہ نہیں ہوگا اور دجال بھی مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ پوری دنیا سے ایمان ختم ہو سکتا ہے لیکن مدینہ میں ایمان اور اس کا مرکز باقی رہے گا۔ اس طرح مکہ اور مدینہ قیامت تک ایمان کا مرکز رہیں گے۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حرمین شریفین کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کے لیے ظاہری اسباب بھی پیدا فرمائے ہیں، جیسے پاکستان اور ترکی کے ساتھ ہونے والے معاہدات اور تعلقات، جن کا مقصد حرمین شریفین کا تحفظ ہے۔ آپ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں ان مقدس مقامات کے تحفظ کو سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی

Violation of the Doha Agreement and Presence of Terrorist Groups in Afghanistan

اس بیان میں مفتی عبدالرحیم نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے سالانہ حملوں اور سکیورٹی آپریشنز کے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح افغانستان میں کالعدم تنظیمیں اور مختلف گروہ پناہ لیے ہوئے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے نہ صرف دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ پاکستان اور اس کی افواج کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو بھی توڑا ہے، جو کہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے۔