Lecture summary

مزار قائد پر حاضری اور قائدِ اعظم کی خدمات پر خراجِ تحسین

Visit to Mazar-e-Quaid and Tribute to Quaid-e-Azam's Services

· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ

ایک نظر میں

مفتی عبدالرحیم نے 30 اگست / 6 ربیع الاول کے موقع پر مزارِ قائد پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ اس موقع پر انہوں نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کی اسلامی ریاست کے قیام، دو قومی نظریے اور اسلام کی سربلندی کے لیے دی گئی قربانیوں اور خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو قائدِ اعظم کے وژن کے مطابق ایک فلاحی اور اسلامی ریاست بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

تفصیلی خلاصہ

بیان کا تفصیلی خلاصہ

مفتی عبدالرحیم نے 30 اگست / 6 ربیع الاول کے بابرکت موقع پر بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کے مزارِ اقدس پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس مقام پر انتہائی جذباتی محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قائدِ اعظم کے حالات سے بہت سے لوگ ناواقف ہیں، لیکن جن لوگوں نے ان کے قریب رہنے والوں یا ان کی خط و کتابت کو دیکھا ہے، وہ جانتے ہیں کہ اتنے بڑے خطے میں بڑی بڑی شخصیات کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس عظیم ریاست کو بنانے کے لیے قائدِ اعظم کو منتخب فرمایا۔

انہوں نے قائدِ اعظم کی غیر معمولی شخصیت، دو قومی نظریے پر ان کی ڈٹ جانے والی بہادری اور قرآن، سنت اور اسلامی نظام کے حوالے سے طے کردہ اصولوں کو سراہا۔ مفتی صاحب نے کہا کہ قائدِ اعظم نے اس قوم کی جس اخلاص کے ساتھ خدمت کی اور ان کا یہ جذبہ تھا کہ انہیں ایسا ملک چاہیے جہاں اقلیتیں محفوظ ہوں، اسلام کا عادلانہ نظام ہو، وہ جلد اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کی تمناؤں کو پورا کریں کیونکہ یہ ملک کلمۂ طیبہ کے نام پر بنا تھا، اس لیے اسے ایک رول ماڈل بنانا چاہیے۔ انہوں نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے اور مزار پر حاضری کے دوران ملنے والے قلبی سکون اور روحانیت کا ذکر کیا۔ آخر میں انہوں نے تمام منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

اہم نکات

  • مفتی عبدالرحیم نے 6 ربیع الاول / 30 اگست کو مزارِ قائد پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔
  • قائدِ اعظم محمد علی جناح کو اسلامی ریاست پاکستان کے قیام کے لیے الہٰی طور پر منتخب شخصیت قرار دیا گیا۔
  • قائدِ اعظم کے دو قومی نظریے اور قرآن و سنت کے مطابق اصولوں کو آج بھی مشعلِ راہ قرار دیا گیا۔
  • قائدِ اعظم کی خلوصِ نیت اور قوم کی خدمت کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
  • پاکستان کو کلمۂ طیبہ کے نام پر بننے والی واحد ایٹمی ریاست کے طور پر مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
  • اقلیتوں کے حقوق، مساوی نظام، اور ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کوشش کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
  • مفتی صاحب نے مزار پر وزیٹر بک میں اپنے تأثرات قلمبند کیے اور دلی سکون کا اظہار کیا۔

English summary

Summary in English

Mufti Abdul Raheem visited Mazar-e-Quaid on August 30 (6th Rabi-ul-Awwal), laid a floral wreath, and offered prayers. During his visit, he paid glowing tribute to Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah for his unmatched services, steadfastness on the two-nation theory, and his vision of establishing a secure, just Islamic welfare state in Pakistan. He emphasized that it is our collective religious and national responsibility to uphold the principles of Pakistan's creation and make the country a true model of Islamic justice and minority protection.

Key points

  • Mufti Abdul Raheem visited Mazar-e-Quaid on the 6th of Rabi-ul-Awwal and laid a floral wreath.
  • Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah was highlighted as a divinely chosen figure for founding Pakistan.
  • The Quaid's steadfastness on the two-nation theory and Islamic principles remains a guiding light.
  • Tribute was paid to Quaid-e-Azam's sincerity, dedication, and service to the nation.
  • Emphasis was laid on preserving Pakistan as the world's sole Islamic nuclear-armed state.
  • The commitment to protecting minorities, ensuring justice, and eradicating corruption was reiterated.
  • Mufti Abdul Raheem recorded his impressions in the visitor's book and expressed deep spiritual peace.

متعلقہ بیانات

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

پاک فوج کی حب الوطنی: سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں کے لیے مشعل راہ

Patriotism of the Pakistan Army: A Guiding Light for Political Parties and Government Institutions

مفتی عبد الرحيم اس کلپ میں پاک فوج کی حب الوطنی، نظم و ضبط، اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور حکومتی اداروں کو ان سے سیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ پاک فوج کے اداروں میں جو نظام، وقت کی پابندی، اور ملک کے ساتھ کمٹمنٹ پائی جاتی ہے، وہ قابلِ تقلید ہے۔ مفتی صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں اپنی ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر ملک اور اس کے اداروں کے ساتھ وفاداری کی حدود کو پار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ ملک ہم سب کا گھر اور عزت و ناموس ہے۔