Lecture summary

طالب علم کے لیے فرشتوں کا انمول عمل

A Precious Act of Angels for the Seeker of Knowledge

· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ

ایک نظر میں

علم حاصل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ ترتیب اور کوشش ہونی چاہیے۔ زندگی کے کسی بھی حصے میں، خواہ بڑھاپا ہو یا بیماری، طالب علم بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سب سے بہتر علم وہ ہے جو خود کو بھی نفع دے اور دوسروں تک بھی نفع پہنچائے۔ طالب علم اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہوتا ہے اور اس کے قدموں کے نیچے فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ سمندر کی مچھلیاں اور بلوں کی چیونٹیاں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔ علم حاصل کرنے سے انسان کا ذہن اور مائنڈ سیٹ دین کے مطابق درست ہو جاتا ہے۔

تفصیلی خلاصہ

بیان کا تفصیلی خلاصہ

مفتی عبد الرحيم اس بیان میں علم حاصل کرنے کی اہمیت اور طالب علم کی فضیلت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کے لیے انسان کو کوئی ترتیب بنانی چاہیے اور زندگی کے کسی بھی موڑ پر، خواہ ریٹائرمنٹ ہو، بڑھاپا ہو یا کوئی مستقل بیماری، انسان کو طالب علم بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہترین علم وہ ہے جو انسان کے اپنے لیے بھی نافع ہو اور دوسروں کو بھی نفع پہنچائے۔ طالب علم بن کر تفسیر، حدیث، فقہ یا دیگر علوم پڑھے جا سکتے ہیں۔

بیان میں طالب علم کی عظمت بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ طالب علم اللہ تعالی کے ہاں بہت مقرب ہوتا ہے اور فرشتے اس کے قدموں کے نیچے پر بچھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سمندر کی گہرائیوں میں مچھلیاں اور بلوں میں چیونٹیاں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتی ہیں۔ لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ علم کے حصول کا اہتمام کرے، کیونکہ اس سے انسان کے ذہن اور سوچ کا زاویہ دین کے مطابق ڈھل جاتا ہے اور وہ بہت سی ایسی باتیں سیکھ لیتا ہے جو پہلے اسے معلوم نہیں ہوتی ہیں۔

اہم نکات

  • علم حاصل کرنے کے لیے ایک باقاعدہ ترتیب اور کوشش ہونی چاہیے۔
  • زندگی کے کسی بھی حصے میں، بڑھاپے یا بیماری میں بھی، طالب علم بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔
  • سب سے بہتر علم وہ ہے جو خود کو اور دوسروں کو نفع دینے والا ہو۔
  • طالب علم تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر علوم حاصل کر سکتا ہے۔
  • طالب علم اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت مقرب ہوتا ہے۔
  • طالب علم کے قدموں کے نیچے فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں۔
  • سمندر کی تہہ میں مچھلیاں اور بلوں میں چیونٹیاں طالب علم کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔
  • علم حاصل کرنے سے انسان کا ذہن اور مائنڈ سیٹ دین کے مطابق درست ہو جاتا ہے۔

English summary

Summary in English

Mufti Abdul Raheem emphasizes the importance of acquiring religious knowledge at any stage of life, whether in old age, during retirement, or through illness. He explains that seeking beneficial knowledge—such as Tafsir, Hadith, and Fiqh—brings immense blessings. A seeker of knowledge is extremely close to Allah, and angels spread their wings beneath their feet, while creatures like fish in the sea and ants in their holes pray for their forgiveness.

Key points

  • One should establish a proper routine and effort to acquire knowledge.
  • Efforts to become a seeker of knowledge should continue at any stage of life, including old age or illness.
  • The best knowledge is that which benefits oneself and others.
  • A seeker of knowledge can study Tafsir, Hadith, Fiqh, and other Islamic sciences.
  • A seeker of knowledge is very close in status to Allah.
  • Angels spread their wings beneath the feet of a seeker of knowledge.
  • Fish in the depths of the sea and ants in their holes pray for the forgiveness of the seeker of knowledge.
  • Acquiring knowledge aligns a person's mindset and thinking properly with the religion.