Lecture summary
سیرت کو یونیورسٹی میں زندہ کریں
Revive Seerah in Universities
· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ
ایک نظر میں
مفتی عبد الرحيم نے سیرت طیبہ کے تین بنیادی حصوں پر روشنی ڈالی ہے: سیرت، فقہ السیرت اور تطبیق السیرت۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات میں سیرت چیئرز قائم کی جانی چاہئیں اور طلبہ و طالبات کو ملکی مسائل اور چیلنجز پر تحقیقی مقالات لکھنے کی ترغیب دی جانی چاہیے تاکہ قرآن، سنت اور سیرت کی روشنی میں معاشی، معاشرتی اور ریاستی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
تفصیلی خلاصہ
بیان کا تفصیلی خلاصہ
مفتی عبد الرحيم نے اپنی گفتگو کا آغاز سیرت کے تین اہم حصوں کی وضاحت سے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلا حصہ سیرت ہے، جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ سے پہلے کے واقعات، آپ کی ولادت، وصال، مکی و مدنی زندگی، معاشرتی اور اخلاقی زندگی کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ دوسرا حصہ فقہ السیرت ہے، جس کے تحت ہونے والے واقعات کے اسباب، علت، حکمت، مصلحت اور فلسفے کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اور یہ کہ جامعات میں اسے باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے۔ تیسرا حصہ تطبیق السیرت ہے، یعنی سیرت طیبہ کو آج کے زمانے کے حالات پر منطبق کر کے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا۔
مفتی صاحب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہم کسی بھی مشکل میں فورا امریکہ یا یورپ کی طرف دیکھتے ہیں، جبکہ ہمارے اپنے گھر میں سیرت کی صورت میں تمام علوم و فنون اور اصول و ضوابط موجود ہیں۔ سیرت کے فلسفے اور فقہ السیرت سے مینجمنٹ، ایچ آر، سائنسی ایجادات، ٹیکنالوجی، اور خاندانی و قومی سطح کے تمام معاملات کے حل مل سکتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے تجویز دی کہ جامعات میں سیرت چیئرز فعال کی جائیں اور طلبہ و طالبات کو ایم فل اور ماسٹرز کی سطح پر ملکی مسائل، نوجوانوں اور حکمرانوں کے چیلنجز پر تحقیقی مقالات لکھنے کے لیے لگایا جائے تاکہ وہ قرآنی تعلیمات اور سیرت طیبہ کی روشنی میں قوم کو درست سمت دکھا سکیں۔
اہم نکات
- سیرت طیبہ کے تین بنیادی حصے ہیں: سیرت، فقہ السیرت اور تطبیق السیرت۔
- سیرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے لے کر وصال اور حیاتِ طیبہ کے تمام حالات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
- فقہ السیرت میں تاریخی واقعات کے اسباب، حکمت اور فلسفے پر غور کیا جاتا ہے۔
- جامعات میں سیرت کو باقاعدہ ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جانا چاہیے۔
- سیرت کے فلسفے میں مینجمنٹ، ایچ آر اور سائنسی و خاندانی امور کے تمام اصول موجود ہیں۔
- تطبیق السیرت کے ذریعے آج کے دور کے مسائل اور ریاستی مشکلات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
- جامعات میں سیرت چیئرز قائم کی جائیں اور ان پر سنجیدہ تحقیق کا آغاز کیا جائے۔
- طلبہ و طالبات کو ملکی مسائل اور چیلنجز پر مقالات لکھنے کے لیے تیار کیا جائے۔
- نوجوانوں کی توانائیاں سوشل میڈیا کے ضیاع کی بجائے مثبت تعمیری تحقیق میں لگائی جائیں۔
English summary
Summary in English
Mufti Abdul Raheem explains the three essential dimensions of Seerah: Seerah itself, Fiqh-us-Seerah, and Tatbeeq-us-Seerah. He emphasizes the establishment of Seerah chairs in universities and encourages students to conduct research on contemporary national issues, guiding them to find solutions based on the Quran, Sunnah, and the life of the Prophet (PBUH).
Key points
- There are three main parts of Seerah: Seerah, Fiqh-us-Seerah, and Tatbeeq-us-Seerah.
- Seerah covers the life events, Makkah and Madinah periods, and moral teachings of the Prophet (PBUH).
- Fiqh-us-Seerah explores the wisdom, rationale, and philosophy behind historical events.
- Seerah should be taught formally as a subject in universities.
- The philosophy of Seerah contains principles for management, HR, science, and family life.
- Tatbeeq-us-Seerah helps apply prophetic solutions to contemporary problems and state challenges.
- Universities should establish and activate Seerah chairs for dedicated research.
- Students should be assigned research papers on national issues and modern challenges.
- Youth energies should be channeled into productive academic research rather than wasted on social media.

