Lecture summary
گلگل بلتستان کے لیے ایک قیمتی تحفہ
A Precious Gift for Gilgit-Baltistan
· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ
ایک نظر میں
مفتی عبدالرحیم صاحب نے گلگت بلتستان کے علاقے میں ایک نئے تعلیمی و دینی ادارے کی بنیاد کے موقع پر خطاب کیا۔ انہوں نے علاقے کے عوام، بچوں اور نوجوانوں کو مبارکباد پیش کی اور بتایا کہ یہ ادارہ نہ صرف دینی تعلیم بلکہ دنیاوی ترقی، کاروبار اور جدید علوم کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے لوگوں کو اس بات کی تلقین کی کہ وہ اس ادارے کا بھرپور ساتھ دیں، علم حاصل کریں اور اپنے مستقبل کو روشن بنائیں۔
تفصیلی خلاصہ
بیان کا تفصیلی خلاصہ
مفتی عبدالرحیم صاحب نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران وہاں ایک بڑے تعلیمی و دینی ادارے کی بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے مولانا سیف اللہ خالد کے والد کی وفات پر تعزیت اور مغفرت کی دعا کی۔ اس کے بعد انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام، نوجوانوں اور بچوں کی تعریف کرتے ہوئے اس علاقے کو پاکستان کا سوئٹزرلینڈ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں معدنیات، کاروبار اور تجارت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، اور اس ادارے کے قیام کا مقصد یہاں کے بچوں کو بہترین دینی اور دنیاوی تعلیم سے آراستہ کرنا ہے۔ مفتی صاحب نے واضح کیا کہ اسلام میں مال کمانا یا عہدے حاصل کرنا بری بات نہیں ہے، بلکہ ان کی ہوس اور غلط استعمال بری چیز ہے۔ انہوں نے صحابہ کرام کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ وہ دنیا کے مالدار ترین افراد بھی تھے اور بہترین دیندار بھی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس ادارے میں قرآن مجید، تجوید، فقہ اور حدیث کے ساتھ ساتھ جدید علوم، مینجمنٹ اور کمپیوٹر کی تعلیم بھی دی جائے گی تاکہ یہاں کے بچے بڑی بڑی کمپنیوں کے مینیجر، فوج کے جنرل اور معاشرے کے ذمہ دار شہری بن سکیں۔ انہوں نے آخر میں عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ادارے کا ساتھ دیں اور اپنے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں۔
اہم نکات
- مولانا سیف اللہ خالد کے والد کی وفات پر تعزیت اور مغفرت کی دعا۔
- گلگت بلتستان کو پاکستان کا سوئٹزرلینڈ اور معدنیات و تجارت کا مرکز قرار دینا۔
- علاقے میں ایک بڑے تعلیمی و دینی ادارے کی بنیاد رکھنے پر مبارکباد۔
- اسلام میں مال، کاروبار اور عہدوں کی درست اور جائز حیثیت کی وضاحت۔
- صحابہ کرام کی مثالیں جن کے پاس دنیا کی دولت بھی تھی اور وہ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے بھی تھے۔
- ادارے میں قرآن، حدیث، فقہ کے ساتھ ساتھ جدید علوم، مینجمنٹ اور کمپیوٹر کی تعلیم کا انتظام۔
- علاقے کے نوجوانوں اور بچوں کو جدید مہارتوں سے لیس کر کے ملکی و بین الاقوامی سطح پر آگے لانا۔
- عوام سے اپیل کہ وہ اس ادارے کا ساتھ دیں اور اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں۔
English summary
Summary in English
Mufti Abdul Raheem delivered a lecture on the occasion of laying the foundation of a major educational and religious institution in Gilgit-Baltistan. He praised the region, its people, and its abundant natural resources, referring to it as the Switzerland of Pakistan. He emphasized the importance of combining religious education with modern disciplines such as management, computer sciences, and economics. He encouraged the youth and parents to take full advantage of this institution to secure both worldly success and spiritual prosperity, assuring them of full support from scholars and institutions in other parts of the country.
Key points
- Condolences and prayers for the late father of Maulana Saifullah Khalid.
- Praising Gilgit-Baltistan as the Switzerland of Pakistan with vast trade and mineral potential.
- Congratulating the locals on the establishment of a new educational and religious institution.
- Clarifying the proper Islamic perspective on wealth, business, and worldly success.
- Citing examples of Sahabah who were both wealthy merchants and righteous believers.
- Announcing plans to teach Quran, Hadith, and Fiqh alongside modern sciences, management, and IT.
- Empowering local youth and children to excel in various professional fields.
- Urging the public to support the institution and prioritize their children's education.