Lecture summary

غیر مسلم ملک میں رہنا کب جائز اور کب ناجائز؟

When is it permissible and when is it impermissible to live in a non-Muslim country?

· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ

ایک نظر میں

مفتی عبدالرحیم اس بیان میں غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کے رہنے کے احکام اور اس کی مختلف اقسام بیان فرما رہے ہیں۔ آپ واضح کرتے ہیں کہ ابتدائی دور میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرض تھی جو فتح مکہ کے بعد منسوخ ہو گئی۔ اس کے بعد حالات کے لحاظ سے ہجرت کے مختلف احکام ہیں، جیسے جہاں دین محفوظ نہ ہو وہاں ہجرت فرض ہے، جہاں ذاتی عبادات محفوظ ہوں لیکن ریاستی قوانین غیر اسلامی ہوں وہاں ہجرت افضل ہے تاکہ فتنہ اور بے دینی سے بچا جا سکے۔ اسی طرح ہنر، تعلیم، تجارت یا تبلیغ و اشاعتِ دین کی غرض سے غیر مسلم ملک میں مقیم ہونا اور وہاں دینی ادارے قائم کرنا کن شرائط کے ساتھ جائز ہے، اس پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ آخر میں بیرونِ ملک مقیم مسلمانوں کے لیے دین کی حفاظت کے لیے دینی صحبت، حلقوں اور تبلیغی جماعت سے جڑے رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

تفصیلی خلاصہ

بیان کا تفصیلی خلاصہ

مفتی عبدالرحیم اپنے اس بیان میں غیر مسلم ممالک میں رہنے کے شرعی احکام کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ گفتگو کا آغاز ہجرت کی اقسام اور احکام سے ہوتا ہے۔ آپ بتاتے ہیں کہ شروع میں مسلمانوں پر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا فرض تھا جو فتح مکہ کے بعد منسوخ ہو گئی، اور اب ہجرت کا حکم حالات سے وابستہ ہے۔ اگر کسی جگہ دین، فرائض یا واجبات محفوظ نہ ہوں تو وہاں سے ہجرت کرنا فرض یا واجب ہو جاتا ہے۔

اگر کوئی شخص ایسے غیر مسلم ملک میں رہتا ہے جہاں اس کی ذاتی عبادات تو محفوظ ہیں مگر چونکہ وہاں اسلامی ریاست نہیں ہے اس لیے حدود و قصاص نافذ نہیں ہو سکتے، تو اگرچہ وہاں رہنا مکمل ناجائز نہیں ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ ہجرت کی جائے تاکہ فتنہ، بے دینی اور اولاد کے عقائد کی خرابی کا اندیشہ نہ رہے۔ بعض اوقات مسلمانوں کے اپنے ملک میں فتنہ، انارکی اور عدم تحفظ کی وجہ سے بھی غیر مسلم ممالک کی طرف ہجرت کرنا فرض ہو جاتا ہے۔

بیان میں اس امر کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ہنر، تعلیم، تجارت یا زبان سیکھنے کی غرض سے غیر مسلم ملک میں سفر کرنا اور رہنا جائز ہے، جس کی نظیر صحابہ کرام کے دور سے بھی ملتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص یا جماعت غیر مسلم ملک میں جاکر دینی اداروں کے قیام، مدارس کے اجرا، اور لوگوں کے دین کی حفاظت اور تبلیغ کے لیے مقیم ہوتی ہے تو یہ نہ صرف جائز بلکہ مستحسن اور بعض حالات میں ضروری ہے۔

آخر میں مفتی صاحب بیرونِ ملک مقیم مسلمانوں بالخصوص گجراتی اور دیگر برصغیر کے مسلمانوں کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ جہاں بھی جائیں، مساجد، مدارس، دین داری اور تبلیغی جماعت کے کاموں سے وابستہ رہیں تاکہ ان کا اور ان کی نسلوں کا دین محفوظ رہ سکے۔

اہم نکات

  • ابتدا میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرض تھی جو فتح مکہ کے بعد منسوخ ہو گئی۔
  • جہاں دین، فرائض اور واجبات محفوظ نہ ہوں، وہاں سے ہجرت کرنا فرض یا واجب ہے۔
  • غیر مسلم ممالک میں جہاں ذاتی عبادات محفوظ ہوں مگر ریاست اسلامی نہ ہو، وہاں احتیاطاً ہجرت کرنا بہتر ہے۔
  • مسلمانوں کے اپنے ملک میں شدید فتنہ اور انارکی ہو تو وہاں سے ہجرت کا حکم لگ سکتا ہے۔
  • ہنر، تعلیم، تجارت یا زبان و ٹیکنالوجی سیکھنے کی غرض سے غیر مسلم ملک میں رہنا جائز ہے۔
  • غیر مسلم ممالک میں دین کی حفاظت، مدارس کے قیام اور تبلیغ کے لیے رہنا اور کام کرنا مستحسن اور ضروری ہے۔
  • بیرونِ ملک مقیم مسلمانوں کے لیے دینی صحبت، دینی حلقوں اور تبلیغی جماعت سے جڑے رہنا انتہائی ضروری ہے۔

English summary

Summary in English

In this lecture, Mufti Abdul Raheem discusses the rulings on residing in non-Muslim countries based on various situations. He explains the historical context of migration (Hijrah) to Madinah and its subsequent abrogation after the Conquest of Makkah, detailing how current rulings depend on the protection of one's faith, personal obligations, and environment. Migration becomes obligatory if one's religious practices or faith are unsafe. However, traveling or residing in non-Muslim lands for education, skills, trade, or propagating Islam and establishing religious institutions is permissible under appropriate conditions to protect and preserve one's faith and the religion of future generations.

Key points

  • Migration to Madinah was initially obligatory, which was abrogated after the Conquest of Makkah.
  • Migration becomes obligatory or necessary where religion, obligatory duties, and faith are not secure.
  • Residing in non-Muslim lands where personal worship is safe but Islamic state laws are absent is permissible, though migration is better to avoid fitnah.
  • Migration from a Muslim country may become necessary if there is severe anarchy, lawlessness, and a threat to life and faith.
  • Residing in non-Muslim countries for education, skills, trade, and learning useful technology is permissible.
  • Staying in non-Muslim countries to establish religious institutions, mosques, and engage in Dawah and Tabligh is commendable and vital.
  • Expats must stay connected with pious company, religious gatherings, and Tableeghi Jamaat to safeguard their faith.