Lecture summary
دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی
Violation of the Doha Agreement and Presence of Terrorist Groups in Afghanistan
· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ
ایک نظر میں
اس بیان میں مفتی عبدالرحیم نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے سالانہ حملوں اور سکیورٹی آپریشنز کے اعدادوشمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح افغانستان میں کالعدم تنظیمیں اور مختلف گروہ پناہ لیے ہوئے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ افغان طالبان نے نہ صرف دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ پاکستان اور اس کی افواج کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو بھی توڑا ہے، جو کہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے۔
تفصیلی خلاصہ
بیان کا تفصیلی خلاصہ
اس بیان میں مفتی عبدالرحیم نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی اور افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ انہوں نے اعدادوشمار کی روشنی میں بتایا کہ 2020 سے لے کر اب تک پاکستان کے خلاف حملوں میں کس قدر اضافہ ہوا ہے۔ 2020 میں جہاں 146 حملے ہوئے تھے، وہیں 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 5379 تک پہنچ گئی، اور جولائی کے مہینے میں بھی حملوں کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے بتایا کہ ان تمام حقائق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں دوحہ معاہدے اور طالبان حکومت کے قیام کے بعد سے صورتحال میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔
مفتی صاحب نے انکشاف کیا کہ افغانستان میں مختلف کالعدم گروہ جیسے ٹی ٹی پی، اتحاد المجاہدین گل بہادر، جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی، مجید بریگیڈ اور دیگر تنظیمیں باقاعدہ پناہ لیے ہوئے ہیں اور انہیں افغان طالبان کی مکمل حمایت اور سہولت کاری حاصل ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ممالک کے بھی درجنوں گروہ وہاں موجود ہیں جن کے تربیتی مراکز اور وسائل موجود ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی اداروں نے بھی ملک کی حفاظت کے لیے ہزاروں سکیورٹی آپریشنز کیے ہیں۔
بیان کے آخر میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ افغان طالبان نے نہ صرف دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ ملا عمر رحمہ اللہ کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات اور محبت کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔ آج افغان وزراء اور ذمہ داران دوسرے ممالک میں جاکر پاکستان مخالف بیانات دیتے ہیں، جو کہ انتہائی قابلِ تشویش ہے۔ انہوں نے افغان حکومت اور ذمہ داران بالخصوص شیخ ہبت اللہ پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدہ جائزہ لیں اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔
اہم نکات
- 2020 سے لے کر اب تک پاکستان کے خلاف افغانستان سے ہونے والے حملوں میں مسلسل اور بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
- سال 2025 میں پاکستان پر ہونے والے حملوں کی تعداد بڑھ کر 5379 تک پہنچ گئی۔
- افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں باقاعدہ پناہ لیے ہوئے ہیں۔
- مختلف ممالک کے 23 سے زائد گروہ اور ہزاروں مسلح افراد افغانستان میں مقیم ہیں جنہیں افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے۔
- افغان حکومت کی جانب سے ان گروہوں کو ماہانہ امداد، ٹریننگ سنٹرز، گاڑیاں اور ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
- پاکستانی سکیورٹی اداروں نے ملکی دفاع کے لیے سالانہ بنیادوں پر دسیوں ہزار کامیاب آپریشنز کیے ہیں۔
- حملوں میں گرفتار ہونے والے افراد میں نمایاں تناسب افغان شہریوں کا ہے، جن میں حکومت اور طالبان سے وابستہ لوگ بھی شامل ہیں۔
- گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان میں ہزاروں افراد دہشت گردانہ کارروائیوں میں شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
- افغان طالبان نے دوحہ معاہدے کی پاسداری کرنے کے بجائے اسے توڑا ہے اور پرامن معاہدوں سے روگردانی کی ہے۔
- ملا عمر رحمہ اللہ کے دور کے برعکس آج کے افغان حکام اور وزراء پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں ملوث ہیں۔
English summary
Summary in English
In this lecture, Mufti Abdul Raheem discusses the violation of the Doha Agreement and the use of Afghan soil against Pakistan. He presents statistical data on cross-border attacks from 2020 to 2025, highlighting the alarming increase in terrorist incidents. The speaker details how various banned groups and militant factions operate freely within Afghanistan with the backing and facilitation of the Afghan Taliban. Furthermore, the lecture addresses how the Afghan Taliban leadership has failed to honor past agreements and historical ties with Pakistan, urging the Afghan authorities to reconsider their policies and prevent militant groups from using Afghan territory for attacks against Pakistan.
Key points
- A continuous and massive increase in attacks against Pakistan originating from Afghan soil has been observed since 2020.
- The number of attacks against Pakistan rose significantly, reaching 5,379 in the year 2025.
- Banned groups such as TTP, Jamaat-ul-Ahrar, Lashkar-e-Jhangvi, and other militant factions enjoy safe havens inside Afghanistan.
- Over 23 foreign militant groups and thousands of armed operatives are sheltered and supported by the Afghan Taliban.
- The Afghan government facilitates these groups with monthly stipends, training camps, vehicles, and logistical support.
- Pakistani security agencies have conducted tens of thousands of counter-terrorism operations annually to defend the country.
- A significant percentage of individuals captured or involved in recent attacks are Afghan nationals, including elements linked to the regime.
- Thousands of Pakistani citizens, including security personnel, have been martyred or injured in terrorist attacks over the past five years.
- The Afghan Taliban have violated the terms of the Doha Agreement and disregarded commitments made for regional peace.
- Unlike the historical ties and respect maintained by past leadership like Mullah Omar, some current Afghan officials engage in anti-Pakistan rhetoric.
