Lecture summary

جہاد کے ساتھ ناانصافی سے بچیں

Avoid Injustice Towards Jihad

· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ

ایک نظر میں

مفتی عبدالرحیم صاحب اپنے اس بیان میں اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ تبلیغی جماعت، مدرسوں اور خانقاہوں کے بعض لوگ جہاد کے فضائل کو اپنے مخصوص اعمال یا اصطلاحات پر چسپاں کر دیتے ہیں، جو کہ شرعی لحاظ سے درست نہیں۔ جہاد کی فضیلتیں اور احکام اپنی جگہ مسلم ہیں، لیکن انہیں دیگر معمولی اعمال کے ساتھ خلط ملط کرنا یا ان کی بنیاد پر غلط معنی پہنانا جہاد کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حضرت نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ جہاد کا اصل مفہوم اور اس کی اصطلاحات کو صحیح طور پر سمجھنا چاہیے تاکہ اس اہم فریضے کے متعلق کسی قسم کی غلط فہمی نہ پھیلے۔

تفصیلی خلاصہ

بیان کا تفصیلی خلاصہ

مفتی عبدالرحیم صاحب اپنے اس خطاب میں جہاد کے متعلق چند اہم اور بنیادی فکری غلطیوں کی اصلاح فرماتے ہیں۔ آپ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ لیسٹر (برطانیہ) میں تبلیغی جماعت کے ایک ساتھی سے ملاقات ہوئی جنہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت دیوبند گئی تھی اور وہاں بخاری شریف کا سبق ہو رہا تھا۔ جب انہوں نے حضرت شیخ الحدیث صاحب (مفتی سعید پالن پوری یا کسی دوسرے بزرگ) کو اس بات سے آگاہ کیا کہ تبلیغی جماعت کے لوگ آئے ہیں، تو اتفاق سے کتاب الجہاد کا سبق جاری تھا۔ اس پر حضرت نے فرمایا کہ تم لوگ جہاد کے فضائل کو اپنے اوپر چسپاں کرتے ہو، جو کہ غلط ہے۔ جو فضیلت گردن کٹانے (یعنی میدان جنگ میں جان قربان کرنے) پر ملتی ہے، وہ چار کلو کا بستر اٹھانے یا تبلیغی و اصلاحی محنت کرنے پر کیسے مل سکتی ہے؟

مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں کہ جہاد کے فضائل کو اپنی جماعت یا خانقاہی و تعلیمی مصروفیات پر فٹ کرنے کی یہ بیماری تقریبا ہر طبقے میں پائی جاتی ہے۔ مدرسے والے جہاد کے فضائل مدارس کے کاموں پر چسپاں کر دیتے ہیں، خانقاہ والے کہتے ہیں کہ 'جہاد بالنفس' اصل جہاد ہے، حالانکہ جہاد بالنفس، جہاد بالمال اور جہاد بنفس (جان کا نذرانہ پیش کرنا) سب الگ الگ اصطلاحات ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی اپنے کارکنوں کو جہاد سے تعبیر کرتی ہیں۔ حالانکہ جہاد دین میں ایک مستقل اصطلاح اور فریضہ ہے، اس کے احکام اور فضائل بہت بلند ہیں، اور حدیث پاک میں جو الفاظ آئے ہیں وہ زیادہ تر قتال یا غزوہ کے باب سے متعلق ہیں، جن کا مقصد خالصتاً اللہ کی راہ میں لڑنا اور دشمن کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس لیے تبلیغی بھائیوں اور دیگر طبقات کو سمجھانا چاہیے کہ ہر عمل کی اپنی جگہ اہمیت ہے، لیکن جہاد کے نام پر دوسری چیزوں کو فائق قرار دینا یا اس کی فضیلت کو عام اعمال کے برابر کرنا درست نہیں۔

اہم نکات

  • جہاد کے فضائل کو دیگر عام دینی یا تبلیغی محنتوں پر چسپاں کرنا درست نہیں۔
  • میدانِ جنگ میں گردن کٹانے کی جو فضیلت ہے، وہ عام کاموں یا بستر اٹھانے پر حاصل نہیں ہو سکتی۔
  • مدارس کے فضائل، خانقاہوں کے اعمال اور سیاسی جدوجہد کو جہاد کے برابر قرار دینا ایک فکری غلطی ہے۔
  • جہاد بالمال، جہاد بالنفس اور جہاد بالقتال کے مفہوم میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
  • احادیث میں زیادہ تر الفاظ قتال اور غزو کے ہیں جن کا مقصود اصل جنگ اور مقابلہ ہے۔
  • جہاد دین کی ایک مستقل اصطلاح ہے جس کے بڑے احکام اور فضائل ہیں۔
  • مفتی صاحب نے تبلیغی احباب اور دیگر جماعتوں کو اس حوالے سے درست فہم اپنانے کی تلقین کی ہے۔

English summary

Summary in English

In this lecture, Mufti Abdul Raheem discusses the common misconception of applying the virtues and merits of Jihad (fighting in the way of Allah) to everyday religious or organizational activities, such as tabligh, madrasa work, or spiritual retreats (khanqah). He emphasizes that while every religious effort has its own value and reward, equating lesser physical or organizational hardships with the supreme sacrifice of physical combat in Jihad is incorrect. Mufti Sahib clarifies the correct meanings of Islamic terms related to Jihad, qital, and self-reformation, advising preachers and scholars to maintain precision when referencing Islamic terminology.

Key points

  • Misapplying the virtues of physical Jihad to everyday religious or organizational tasks is incorrect.
  • The supreme reward of sacrificing one's life in battle cannot be equated to routine physical efforts.
  • Falsely equating madrasa work, spiritual retreats, or political struggles with actual Jihad is a conceptual error.
  • It is essential to understand the distinct meanings of fighting with wealth, self-reformation, and physical combat.
  • Most Hadith references concerning Jihad use terms related to warfare and combat (Qital and Ghazwa).
  • Jihad is an independent Islamic term with profound rulings and unmatched virtues.
  • Preachers and groups should maintain conceptual accuracy regarding the term Jihad.