خلاصہ پڑھیںسب سے افضل شہید کون ہے؟
Who is the Best Martyr?
مفتی عبدالرحیم اس بیان میں ان خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو دہشت گردی کے واقعات میں کھویا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ۳۱ افراد شہید ہوئے جن میں پولیس اہلکار اور عام لوگ شامل ہیں۔ آپ شہداء کے لواحقین کو صبر جمیل کی تلقین کرتے ہیں اور معاشرے سے اپیل کرتے ہیں کہ شہداء کے یتیم بچوں، بیوہ افراد اور متاثرہ خاندانوں کی خصوصی دیکھ بھال کریں۔ آپ شہداء کی قربانیوں، اسلام میں شہادت کی عظمت اور اس کے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں جان قربان کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت دونوں میں باعزت ہوتے ہیں۔ مزید برآں، آپ خیبر پختونخوا کی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور مشکل وقت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔