Topic

تاریخ اسلام

Islamic History

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

سیرت کے علمی ماڈلز بنانے کی ضرورت

The Need to Create Academic Models of Seerah

مفتی عبدالرحیم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف حصوں اور پہلوؤں، جیسے جغرافیہ، ہجرت کے راستوں اور مختلف غزوات (جیسے غزوہ احد اور غزوہ بدر) پر علمی اور عملی ماڈلز تیار کیے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مدینہ طیبہ میں ڈاکٹر احمد عبدالعزیز نے پی ایچ ڈی کی سطح پر بہترین ماڈلز بنائے ہیں۔ اس طرح کے ماڈلز تعلیمی اداروں اور جامعات میں قائم کرنے سے طلبہ اور طالبات کو سیرت کے مطالعے میں مدد ملے گی اور وہ اسلام کے بنیادی ورثے کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

ملک و قوم کی تعمیر اور خواتین کا کردار

The Role of Women in Nation Building

اس ویڈیو میں مفتی عبدالرحیم صاحب نے دورِ حاضر میں تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے خواتین کے کردار پر گفتگو کی ہے۔ انہوں نے سیرتِ صحابیات، بالخصوص حضرت امِ عمارہ رضی اللہ عنہا کی شجاعت اور قربانیوں کا ذکر کیا کہ کس طرح انہوں نے غزوات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ قرآن کریم میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق اور فضائل کا بھی خصوصی ذکر موجود ہے۔ حضرت امِ عمارہ رضی اللہ عنہا کی مثال سے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ کس طرح مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے اہل خانہ کی قربانیوں کے باوجود دین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ آخر میں مفتی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی خواتین کو پردے میں رہتے ہوئے علم و تربیت کے ذریعے ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔

خلاصہ پڑھیں
AI-assisted summary

ریاستی معاہدوں کی پاسداری: اسلامی تاریخ کا روشن سبق

Upholding State Treaties: A Brilliant Lesson from Islamic History

اس بیان میں مفتی عبد الرحیم نے ریاستوں اور قبائل کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اسلام میں معاہدوں کی پاسداری فرض قرار دی گئی ہے اور عہد شکنی کو گناہِ کبیرہ اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا باعث بتایا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں کئی اہم معاہدے کیے گئے جن کی پاسداری کی گئی، خواہ وہ بنو قریظہ، بنو نضیر، بنو قینقاع، قریشِ مکہ یا خیبر کے ساتھ ہوں۔ مقرر نے واضح کیا کہ اسلام میں کسی بھی معاہدے کو توڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور معاہدہ توڑنے والا شریعت کی نظر میں فاسق ہے۔