Gilgit Independence Day and the Inauguration of Chilas Campus
مفتی عبد الرحیم نے گلگت کی آزادی کے دن کی مناسبت سے خطاب کرتے ہوئے چلاس کیمپس کے افتتاح پر خوشی کا اظہار کیا اور اس ادارے میں علومِ اسلامیہ، حفظ، تجوید اور تخصصات کے آغاز کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے طلب اور ادب کی اہمیت پر زور دیا اور اللہ تعالی کی مشیت اور قانون کے فرق کو واضح کیا۔
مفتی عبد الرحیم اپنے اس بیان میں سیرتِ طیبہ کی روشنی میں ریاست کی تعلیمات اور حکمت عملی پر روشنی ڈالتے ہیں۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ میں قیامت تک آنے والے تمام انسانی مسائل اور ریاستی چیلنجز کا مکمل حل موجود ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہجرت کا واقعہ محض وقتی اقدام کے طور پر نہیں بلکہ ایک مضبوط اسلامی ریاست کی بنیاد رکھنے کے لیے کیا تھا، جس کے لیے پانچ سال تک باقاعدہ تیاری کی گئی اور مختلف قبائل سے مشاورت کی گئی۔ آپ نے زور دیا کہ سیرتِ طیبہ کو آج کے دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشرے اور ریاست کو بہترین خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
اس ویڈیو میں مفتی عبدالرحیم صاحب نے دورِ حاضر میں تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے خواتین کے کردار پر گفتگو کی ہے۔ انہوں نے سیرتِ صحابیات، بالخصوص حضرت امِ عمارہ رضی اللہ عنہا کی شجاعت اور قربانیوں کا ذکر کیا کہ کس طرح انہوں نے غزوات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ قرآن کریم میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے حقوق اور فضائل کا بھی خصوصی ذکر موجود ہے۔ حضرت امِ عمارہ رضی اللہ عنہا کی مثال سے یہ واضح کیا جاتا ہے کہ کس طرح مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے اہل خانہ کی قربانیوں کے باوجود دین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ آخر میں مفتی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ آج کی خواتین کو پردے میں رہتے ہوئے علم و تربیت کے ذریعے ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
Effective Methods of Teaching by Mufti Abdul Raheem
مفتی عبدالرحیم اس ویڈیو میں طلبہ کو پڑھانے اور سمجھانے کے مؤثر طریقوں پر گفتگو کرتے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اساتذہ کو صرف کتابی حد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ پڑھائے جانے والے اسباق کی پریزنٹیشن بنانی چاہیے، طالب علموں کو فہم کے مختلف طریقے سکھانے چاہئیں، اسباق پر تقریر کروانی چاہیے اور سبق کے اختتام پر طلبہ کو آپس میں تکرار اور بحث کا موقع دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ طالب علموں کو پڑھائے گئے موضوع کو زبانی یاد کرنے، نوٹس تیار کرنے، خلاصہ یا ہائی لائٹ نکالنے، موضوع پر ریسرچ اور اسائنمنٹ دینے، معاشرے میں سروے کروا کر لوگوں سے سوال جواب کرنے، اور موضوع پر ویڈیو بنانے جیسے عملی طریقے اپنانے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ علم پختہ ہو سکے۔