خلاصہ پڑھیںغیر مسلم ملک میں رہنا کب جائز اور کب ناجائز؟
When is it permissible and when is it impermissible to live in a non-Muslim country?
مفتی عبدالرحیم اس بیان میں غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کے رہنے کے احکام اور اس کی مختلف اقسام بیان فرما رہے ہیں۔ آپ واضح کرتے ہیں کہ ابتدائی دور میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرض تھی جو فتح مکہ کے بعد منسوخ ہو گئی۔ اس کے بعد حالات کے لحاظ سے ہجرت کے مختلف احکام ہیں، جیسے جہاں دین محفوظ نہ ہو وہاں ہجرت فرض ہے، جہاں ذاتی عبادات محفوظ ہوں لیکن ریاستی قوانین غیر اسلامی ہوں وہاں ہجرت افضل ہے تاکہ فتنہ اور بے دینی سے بچا جا سکے۔ اسی طرح ہنر، تعلیم، تجارت یا تبلیغ و اشاعتِ دین کی غرض سے غیر مسلم ملک میں مقیم ہونا اور وہاں دینی ادارے قائم کرنا کن شرائط کے ساتھ جائز ہے، اس پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ آخر میں بیرونِ ملک مقیم مسلمانوں کے لیے دین کی حفاظت کے لیے دینی صحبت، حلقوں اور تبلیغی جماعت سے جڑے رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔