Lecture summary
خواتین کا افضل ترین جہاد کیا ہے؟
What is the Best Jihad for Women?
· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ
ایک نظر میں
اس ویڈیو میں مفتی عبد الرحيم خواتین کے افضل ترین جہاد کے بارے میں گفتگو فرماتے ہیں۔ ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے سوال کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خواتین کے لیے افضل ترین جہاد مبرور حج ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس ارشاد کے بعد کبھی زندگی میں حج کا ناغہ نہیں کیا۔ البتہ ضرورت پڑنے پر خواتین کا جہاد میں شرکت یا علاج معالجے کے لیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ صحابیات جنگ کے دوران زخمیوں کی مرہم پٹی اور پانی پلانے کے فرائض سرانجام دیتی تھیں۔
تفصیلی خلاصہ
بیان کا تفصیلی خلاصہ
اس بیان میں مفتی عبد الرحيم خواتین کے جہاد سے متعلق احکام اور احادیث بیان فرماتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ جہاد سب سے افضل عمل ہے تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خواتین کے لیے افضل ترین جہاد حج مبرور ہے۔ یعنی خواتین کو جہاد کی بجائے حج کرنے کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس فرمان کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کبھی زندگی میں حج کا ناغہ نہیں کیا، حالانکہ روایات کے مطابق انہوں نے پینتالیس حج کیے تھے جن میں ایک فرض اور باقی نفل تھے۔
مفتی صاحب مزید وضاحت فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خواتین بالکل جہاد میں حصہ نہیں لے سکتیں بلکہ اگر بوقت ضرورت یا علاج معالجے کے لیے عملے کی ضرورت پڑے تو خواتین جا سکتی ہیں۔ احادیث سے ثابت ہے کہ صحابیات رضوان اللہ علیہن اجمعین غزوات اور جہاد میں شریک ہوتی تھیں اور زخمیوں کو پانی پلانے، ان کی تیمارداری کرنے اور زخموں کی مرہم پٹی جیسے خدمات سرانجام دیتی تھیں۔ اس طرح ضرورت کے تحت خواتین کا میدانِ جنگ میں شریک ہونا جائز اور درست ہے۔
اہم نکات
- ایک صحابیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواتین کے جہاد کے بارے میں دریافت کیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خواتین کے لیے افضل ترین جہاد حج مبرور ہے۔
- خواتین کے لیے جہاد کی بجائے حج کو افضل قرار دیا گیا ہے۔
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس فرمان کے بعد زندگی بھر حج کا ناغہ نہیں کیا۔
- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی زندگی میں کل پینتالیس حج کیے۔
- پینتالیس میں سے ایک حج فرض تھا اور باقی تمام نفل حج تھے۔
- ضرورت اور حاجت کے تحت خواتین میدانِ جہاد میں خدمات انجام دے سکتی ہیں۔
- احادیث سے ثابت ہے کہ صحابیات جنگ کے دوران زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں اور تیمارداری کرتی تھیں۔
- صحابیات میدانِ جنگ میں زخمیوں کی مرہم پٹی کے فرائض بھی سرانجام دیتی تھیں۔
English summary
Summary in English
In this video, Mufti Abdul Raheem discusses the best form of jihad for women. In response to a female Companion's question about whether women should also participate in jihad, the Prophet (PBUH) stated that the best jihad for women is an accepted Hajj (Hajj Mabrour). The lecture mentions that Hazrat Aisha (RA) performed 45 Hajj pilgrimages in her lifetime after hearing this guidance. However, the speaker also explains that in times of necessity, women can participate in medical or supportive roles during conflict, as female Companions historically provided water, nursed the wounded, and treated injuries in battles.
Key points
- A female Companion asked the Prophet (PBUH) about jihad for women.
- The Prophet (PBUH) stated that the best jihad for women is an accepted Hajj.
- Hajj was prioritized for women over direct combat jihad.
- Hazrat Aisha (RA) never missed Hajj after hearing this blessed statement.
- Hazrat Aisha (RA) performed a total of 45 Hajj pilgrimages in her life.
- Out of 45, one Hajj was obligatory and the rest were voluntary.
- Women may participate in supportive roles during jihad when there is a genuine need.
- Hadiths show that female Companions provided water to the wounded during battles.
- Sahabiyat also performed nursing duties and bandaged wounds on the battlefield.