Lecture summary
دار الاسلام کی تعریف | مفتی عبدالرحیم
Definition of Dar-ul-Islam | Mufti Abdul Raheem
· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ
ایک نظر میں
دار الاسلام کی تعریف کے حوالے سے مفتی عبدالرحیم صاحب نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے علامہ سرخسی اور علامہ قہستانی کے حوالے سے بیان کیا کہ دار الاسلام وہ خطہ ہے جہاں مسلمانوں کا غلبہ ہو اور اسلامی احکام نافذ کرنے کی مکمل قدرت حاصل ہو۔ اگر کوئی ملک دار الاسلام بننے کے بعد اپنی غفلت کی وجہ سے احکام نافذ کرنے میں کوتاہی کرے تو وہ گنہگار تو ہوتے ہیں، لیکن محض غفلت کی وجہ سے وہ ملک دار الاسلام کی تعریف سے خارج نہیں ہوتا۔ تمام محققین اور مفتیانِ کرام کا یہی متفقہ فتویٰ صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔
تفصیلی خلاصہ
بیان کا تفصیلی خلاصہ
مفتی عبدالرحیم صاحب نے اس بیان میں دار الاسلام کی تعریف اور اس کے احکام پر مفصل گفتگو فرمائی ہے۔ انہوں نے علامہ سرخسی کی کتاب 'شرح السیر الکبیر' کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دار الاسلام اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو اور امن و امان ہو۔ اس کے علاوہ حضرت مولانا تقی عثمانی صاحب کی کتاب سے بھی اقتباس پیش کیا گیا جس کے مطابق کسی ملک کے دار الاسلام قرار پانے کی اصل بنیاد یہ ہے کہ اس پر مسلمانوں کو مکمل اقتدار اور احکام جاری کرنے کی قدرت حاصل ہو۔
بیان میں وضاحت کی گئی کہ اگر کوئی مسلم ملک اقتدار حاصل ہونے کے بعد غفلت یا کوتاہی کی وجہ سے تمام احکامِ شریعت نافذ نہ کرے، تو اس پر واجب تو یہی ہے کہ وہ شریعت کو نافذ کرے، لیکن محض اس مجرمانہ غفلت کی وجہ سے وہ ملک دار الاسلام کی تعریف سے خارج نہیں ہوتا۔ اس صورت میں حکمران فاسق و فاجر اور تارکِ فرض قرار پاتے ہیں مگر دار الاسلام کا حکم ختم نہیں ہوتا۔ مفتی صاحب نے واضح کیا کہ یہ تمام محققین اور مفتیانِ کرام کا متفقہ اور صدیوں سے چلا آنے والا فتویٰ ہے۔
اہم نکات
- دار الاسلام وہ جگہ ہے جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو اور اسلامی احکام کے تحت فیصلے ہوتے ہوں۔
- علامہ سرخسی کے مطابق دار الاسلام وہ موضع ہے جہاں مسلمانوں کی حکومت اور تسلط ہو۔
- کسی ملک کے دار الاسلام ہونے کی اصل شرط مسلمانوں کا مکمل اقتدار اور احکام نافذ کرنے کی قدرت ہے۔
- اگر کوئی ملک اقتدار ہونے کے باوجود غفلت کی وجہ سے احکام نافذ نہ کرے تو حکمران فاسق اور تارکِ فرض ہوتے ہیں۔
- محض غفلت یا کوتاہی کی وجہ سے کوئی مسلم ملک دار الاسلام کی تعریف سے خارج نہیں ہوتا۔
- مسلمان حکومتوں پر فرض ہے کہ وہ تمام احکامِ شریعت کو مکمل طور پر نافذ کریں۔
- یہ مؤقف اور فتویٰ صدیوں سے تمام محققین اور مفتیانِ کرام کا متفقہ فیصلہ رہا ہے۔
English summary
Summary in English
Mufti Abdul Raheem explains the definition of Dar-ul-Islam based on classical Hanafi jurists like Allama Sarakhsi and Allama Qahistani, along with references from contemporary scholars. He clarifies that a region becomes Dar-ul-Islam when Muslims hold sovereign authority and possess the power to enforce Islamic laws. If a Muslim country possesses this capability but fails to implement Islamic laws due to negligence, the rulers become sinful (fasiq), but the country does not lose its status as Dar-ul-Islam. This has been the consistent consensus and fatwa of Islamic researchers and jurists for centuries.
Key points
- Dar-ul-Islam is defined as a region where Muslims hold governance and judgments are made under Islamic principles.
- According to Allama Sarakhsi, Dar-ul-Islam is a place under the control and authority of Muslims.
- The core requirement for a country to be Dar-ul-Islam is sovereign Muslim authority and the capacity to enforce laws.
- If a country fails to implement laws due to negligence despite having power, the rulers are considered sinful.
- Mere negligence or omission does not expel a country from the definition of Dar-ul-Islam.
- Muslim rulers are religiously obligated to fully implement Islamic sharia rulings.
- This ruling and fatwa has been consistently upheld by researchers and jurists for centuries.
