Lecture summary

تبلیغی جماعت کے اصول یونیورسٹیوں میں پڑھائے جائیں!

Principles of Tablighi Jamaat Should Be Taught in Universities!

· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ

ایک نظر میں

مفتی عبد الرحیم صاحب اپنے اس بیان میں تبلیغی جماعت کے نظم و نسق، اصول و ضوابط اور تنظیمی حکمت عملی کی تحسین کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کو ایک صدی گزر چکی ہے اور اس دوران بہت سی تحریکیں ختم ہو گئیں لیکن تبلیغی جماعت کا نظام کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ ان کے مطابق اس تحریک کے اصولوں میں کسی خاص مکتب فکر یا علاقے کی قید نہیں ہے بلکہ اس میں ہر طبقے اور مکتب فکر کے لوگ شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی طاقت امیر کی اطاعت اور ایک جامع عالمی پلیٹ فارم کا قیام ہے جہاں پوری دنیا کے لوگ ایک ساتھ جڑتے ہیں۔ مفتی صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے انتظامی اور تربیتی اصول اتنے منظم اور بہترین ہیں کہ انہیں یونیورسٹیوں میں پڑھایا جانا چاہیے تاکہ طلباء اور ریسرچ کرنے والے اس سے استفادہ کر سکیں۔

تفصیلی خلاصہ

بیان کا تفصیلی خلاصہ

مفتی عبد الرحیم صاحب اس بیان میں تبلیغی جماعت کے کام، اس کے اصول و ضوابط اور تنظیمی طریقہ کار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت نے تحریکوں کو اٹھانے، محفوظ کرنے اور آگے بڑھانے کا جو تجربہ پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اعتراض کرنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ اتنی ساری تحریکیں بہت جلد خلفشار اور زوال کا شکار ہو گئیں جبکہ تبلیغی جماعت نے ایک صدی کامیابی سے مکمل کی۔ اس کامیابی کی بنیاد وہ اصول و ضوابط ہیں جن پر جماعت پوری سختی اور پابندی کے ساتھ عمل کرتی ہے۔ جماعت کی روح 'امیر کی اطاعت' میں پوشیدہ ہے اور جہاں امیر کی اطاعت کا نظام کمزور ہوتا ہے وہاں نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مفتی صاحب بتاتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے کام میں کسی خاص مکتب فکر، مسلک یا علاقے کی قید نہیں رکھی گئی جس کی وجہ سے اس میں عمومیت پیدا ہوتی ہے اور رائے ونڈ ہو یا ہندوستان یا دنیا کا کوئی بھی کونا، ہر جگہ کے لوگ اس سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے طلباء کی تربیت کے حوالے سے یہ بھی واضح کیا کہ جامعات اور اداروں میں طلباء کو کسی ایک محدود فکری دائرے میں جکڑنے کے بجائے ایک وسیع اور عالمگیر بنیاد فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ امت کی فلاح اور درست نظام سے روشناس ہو سکیں۔ آخر میں مفتی صاحب نے دعا کی کہ اللہ تعالی تبلیغی جماعت کو انہی اصولوں پر قائم رکھتے ہوئے مزید ترقی عطا فرمائے۔

اہم نکات

  • تبلیغی جماعت نے تحریکوں کو اٹھانے اور محفوظ کرنے کا ایک شاندار تجربہ پیش کیا ہے۔
  • بہت سی تحریکیں جلد خلفشار کا شکار ہو گئیں جبکہ تبلیغی جماعت نے ایک صدی کامیابی سے مکمل کی۔
  • جماعت کی کامیابی کے پیچھے مضبوط اصول، ضوابط اور ان کی پابندی کارفرما ہے۔
  • امیر کی اطاعت تبلیغی جماعت کی اصل روح ہے اور اس کے بغیر نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔
  • جماعت کے کام میں کسی خاص مکتب فکر یا علاقے کی قید نہیں رکھی گئی جس سے اس میں عمومیت پیدا ہوئی۔
  • دنیا بھر کے مختلف علاقوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد بغیر کسی تفریق کے اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔
  • جماعت کا انتظامی اور تنظیمی نظام اتنا زبردست ہے کہ اسے یونیورسٹیوں میں پڑھایا جانا چاہیے۔
  • طلباء اور نوجوانوں کو تعلیمی اداروں میں ایک وسیع اور عالمگیر سوچ کے تحت تربیت دینی چاہیے۔

English summary

Summary in English

In this lecture, Mufti Abdul Raheem praises the organizational structure, rules, and management principles of Tablighi Jamaat. He notes that while many movements quickly dissolved or faced internal conflicts, Tablighi Jamaat has successfully completed a century of continuous work. He highlights that the movement avoids rigid sectarian or regional restrictions, making it universally accessible to people from all backgrounds. The core spirit of the Jamaat lies in obedience to the Amir and maintaining a unified global platform. Mufti Abdul Raheem concludes that the administrative and disciplinary methods of Tablighi Jamaat are so exemplary that they should be taught in universities as a model of successful organization.

Key points

  • Tablighi Jamaat provides a remarkable model for raising and sustaining Islamic movements.
  • Many other movements faded away quickly, whereas Tablighi Jamaat successfully completed a century.
  • The success of the Jamaat is rooted in its disciplined principles and strict adherence to them.
  • Obedience to the Amir serves as the core spirit and backbone of the Jamaat's administration.
  • The movement avoids restrictive sectarian, regional, or specific school-of-thought boundaries.
  • People from diverse backgrounds and various parts of the world connect effortlessly with the Jamaat.
  • The management and organizational framework of the Jamaat is exemplary enough to be taught in universities.
  • Students and youth should be nurtured with a broad, inclusive, and universal perspective within educational institutions.