Lecture summary
پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے والے 3 قسم کے عناصر
3 Types of Elements Spreading Terrorism in Pakistan
· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ
ایک نظر میں
مفتی عبد الرحيم پاکستان میں دہشت گردی اور فساد پھیلانے والے تین قسم کے عناصر پر روشنی ڈالتے ہیں۔ بیان میں خوارج، باغیوں اور فسادیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو شریعت، جہاد یا مذہب کے نام پر زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ مفتی صاحب وضاحت کرتے ہیں کہ یہ عناصر خودکش حملوں، مساجد پر حملوں اور علماء کو شہید کرنے جیسے قبیح افعال میں ملوث ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ مختلف ناموں اور حوالوں سے مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں اور بیرونی یا اندرونی حمایت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ان لوگوں کا بھی تذکرہ کرتے ہیں جو خود لڑائی میں شامل نہیں ہوتے لیکن لڑنے والوں کی مالی، فکری اور نظریاتی مدد کرتے ہیں، اور انہیں خوارج سے بھی زیادہ بدتر اور خبیث قرار دیتے ہیں۔
تفصیلی خلاصہ
بیان کا تفصیلی خلاصہ
مفتی عبد الرحيم اس بیان میں پاکستان کے اندر دہشت گردی اور بدامنی پھیلانے والے تین بنیادی اور خطرناک عناصر کا تذکرہ کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ جو لوگ زمین پر فساد پھیلاتے ہیں اور اللہ و رسول سے جنگ کرتے ہیں، ان کا حکم شریعت اور تمام فقہوں میں بالکل واضح ہے۔
پہلا طبقہ خوارج، باغیوں اور فسادیوں کا ہے جو شریعت، جہاد، مذہب یا حقوق کے نام پر سنگین جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ان کی پہچان ان کے بیانات اور بالخصوص خودکش حملوں، مساجد پر دھاوا بولنے اور علماء کرام کو نشانہ بنانے جیسے گھناؤنے اقدامات سے ہوتی ہے۔ یہ عناصر مذہب کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور مختلف سمتوں سے ملنے والی حمایت یا سہولت کاری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
دوسرا اور تیسرا عنصر ان افراد پر مشتمل ہے جو فکری، نظریاتی یا عملی طور پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ مفتی صاحب حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے حوالے سے خوارج کی بدترین قسم کا ذکر کرتے ہوئے ایسے معاونین اور حامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں جو خود میدانِ جنگ میں تو نہیں لڑتے لیکن جنگ کرنے والوں کو پناہ دیتے ہیں، حوصلہ افزائی کرتے ہیں، مالی معاونت فراہم کرتے ہیں اور نظریاتی مدد کرتے ہیں۔ مفتی صاحب کے مطابق ایسے سہولت کار اور مددگار براہ راست لڑنے والوں سے بھی زیادہ بدتر اور خبیث ہوتے ہیں۔
اہم نکات
- پاکستان میں فساد اور دہشت گردی پھیلانے والے عناصر بنیادی طور پر خوارج، باغی اور فسادی ہیں۔
- قرآن مجید اور تمام فقہوں میں فساد پھیلانے والوں اور اللہ و رسول سے جنگ کرنے والوں کی سزائیں واضح ہیں۔
- دشت گردی میں ملوث افراد شریعت، جہاد، مذہب یا حقوق کا نام استعمال کرتے ہیں۔
- خودکش حملے کرنا، مساجد پر حملے کرنا اور علماء کو شہید کرنا ان خوارج کی اہم علامات ہیں۔
- یہ عناصر مذہب کو بطور کارڈ استعمال کرتے ہیں اور جہاں سے بھی حمایت ملے اسے قبول کرتے ہیں۔
- خوارج کے علاوہ ایک خطرناک طبقہ ان کے معاونین اور سہولت کاروں کا ہے۔
- جو لوگ خود لڑائی میں حصہ نہیں لیتے مگر لڑنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، وہ خوارج سے بھی بدتر ہیں۔
- دہشت گردوں کو مالی، نظریاتی اور پناہ کی شکل میں مدد دینے والے بدترین خبیث عناصر ہیں۔
English summary
Summary in English
Mufti Abdul Raheem discusses the three types of elements spreading terrorism and corruption in Pakistan, identifying them as Khawarij, rebels, and mischief-makers who use the names of religion, Shariah, or jihad to cause destruction. He highlights how these elements engage in suicide attacks, target mosques, and assassinate scholars under the guise of religious cards. Furthermore, he emphasizes that those who do not directly fight but provide financial, ideological, and logistical support to terrorists are even worse and more malicious than the actual fighters.
Key points
- Elements spreading corruption and terrorism in Pakistan are primarily Khawarij, rebels, and mischief-makers.
- Shariah and all jurisprudential schools clearly outline punishments for those who spread corruption and wage war against Allah and His Messenger.
- Individuals involved in terrorism misuse names of Shariah, jihad, religion, or rights.
- Conducting suicide attacks, attacking mosques, and assassinating scholars are key traits of these Khawarij.
- These elements use religion as a card and accept support from any available source.
- Besides active Khawarij, another dangerous group consists of their supporters and facilitators.
- Those who do not fight directly but encourage the fighters are even worse than the fighters themselves.
- Providers of financial, ideological, and logistical shelter to terrorists are the most malicious elements.
