Lecture summary

دنیاوی تعلیم اور صحیح نبوی جانشینی | گلگت کے لیے پیغام | مفتی عبدالرحیم

Worldly Education & True Prophetic Succession | Message for Gilgit | Mufti Abdul Raheem

· Mufti Abdul Raheem

مختصر خلاصہ

ایک نظر میں

مفتی عبدالرحیم کا گلگت کے عوام اور بچوں کے لیے ایک اہم خطاب جس میں دنیاوی تعلیم، تکنیکی مہارت اور عصری علوم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ خطاب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو تعلیم اور مہارت کے میدان میں آگے بڑھنا چاہیے تاکہ وہ دنیا میں عزت اور غلبہ حاصل کر سکیں اور اسلام کی دعوت کو مؤثر انداز میں عام کر سکیں۔

تفصیلی خلاصہ

بیان کا تفصیلی خلاصہ

مفتی عبدالرحیم نے گلگت میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ سال سے بچوں کے لیے خصوصی کورسز کا آغاز کیا جائے گا تاکہ وہ جلد از جلد اس خطے کو سنبھال سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم، مہارت، سائنس اور ٹیکنالوجی کوئی بری چیز نہیں ہے، بلکہ اصل خرابی ماحول اور غلط اساتذہ کی ہے جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کو منجنیق سیکھنے اور دوسری زبانیں سیکھنے کی ترغیب دی تھی۔ غزوہ بدر کے قیدیوں کے لیے فدیہ یا مدینہ کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسلامی تعلیم میں دنیاوی علوم کی بھی بڑی اہمیت ہے۔ انہوں نے بنو قریظہ، بنو قینقاع اور بنو نضیر کی مثال دے کر سمجھایا کہ وہ معیشت، تجارت، صنعت اور دفاعی قوت میں آگے تھے لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی اور صحابہ کی جدوجہد نے انہیں مغلوب کر دیا۔ مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دین اسلام میں اتنی قوت اور کشش ہے کہ اگر صحیح طریقے سے عمل کیا جائے تو پوری دنیا قدموں میں آ سکتی ہے۔ انہوں نے گلگت کے لوگوں کو اپنی زمینوں اور وسائل کی قدر کرنے اور بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی تلقین کی۔ آخر میں انہوں نے یقین دلایا کہ بچوں کے لیے کمپیوٹر، مینجمنٹ، اکاؤنٹنگ اور جدید ٹیکنالوجی (AI) کے کورسز ڈیزائن کیے جائیں گے تاکہ وہ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔

اہم نکات

  • آئندہ سال سے بچوں کے لیے جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے کورسز شروع کیے جائیں گے۔
  • تعلیم، سائنس، اور ٹیکنالوجی خود بری نہیں ہیں بلکہ ان کا درست استعمال ضروری ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو فنون اور مہارتیں سیکھنے کی ترغیب دی۔
  • بدر کے قیدیوں سے مدینہ کے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کی شرط رکھی گئی۔
  • مسلمانوں کو دنیاوی اور دینی دونوں علوم میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔
  • گلگت کے عوام کے پاس قدرتی وسائل اور صلاحیتیں ہیں جنہیں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔
  • بچوں کو کمپیوٹر، مینجمنٹ، اکاؤنٹنگ اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم دی جائے گی۔
  • علماء اور طلباء کو خوفزدہ ہونے کے بجائے شجاعت اور حکمت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
  • حکومت اور امامت کی ذمہ داری دین اور دنیا دونوں کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔

English summary

Summary in English

Mufti Abdul Raheem delivers an inspiring address in Gilgit focusing on the importance of modern education, technical skills, and computer technology for children. He encourages the local community not to fear external influences or global companies, but rather to equip themselves with both religious and worldly education. Citing historical examples from the time of the Prophet (PBUH), he emphasizes that mastering useful skills and sciences leads to true success and leadership.

Key points

  • Special courses in modern sciences and technology will be launched for children starting next year.
  • Education, science, and technology are not inherently bad; proper application and environment matter.
  • The Prophet (PBUH) encouraged companions to learn new skills and technical knowledge.
  • Educating the youth and gaining practical skills was emphasized even in early Islamic history.
  • Muslims must excel in both religious and contemporary worldly education.
  • The people of Gilgit possess immense natural potential and resources that need proper utilization.
  • Children will be trained in computers, management, accounting, and artificial intelligence (AI).
  • Scholars and students should act with courage and wisdom rather than fear.
  • True leadership in society requires balancing both spiritual values and worldly responsibilities.